Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
68 - 85
 آئیں گے ، اس میں کسی زوجہ کے ساتھ آرام کریں گے ۔ اس بات پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسکرائے پھر آپ کا وہ مرض شروع ہوگیا جس میں آپ کی وفات ہوئی ۔ (1)
سرکار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا بخار: 
	 واضح ہو گیا کہ  مرض شریف کی ابتدا سر مبارک کے درد سے ہوئی اور ظاہر یہ ہے کہ  سرد درد بخار  کے ساتھ تھا، کیونکہ آپ کے مرض میں بخار شدید ہو گیا تھا،  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  طشت میں  تشریف فرما ہوتے اور آپ کے اوپر سات مشکوں کا پانی ڈالا جاتا،  جن    کا بندھن کھولا نہ گیا ہوتا،  پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پانی سے ٹھنڈک حاصل فرماتے تھے ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کمبل اوڑھے ہوئے تھے ، جو آپ پر ہاتھ رکھتا اسے کمبل کے اوپر سے آپ کے بخار کی حرارت محسوس ہوتی تھی، اس کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: ہم پر یونہی تکلیف سخت ہوتی ہے اور ہمارے لئے اجر بڑھا دیا جاتا ہے ۔ (2)  اور فرمایا: مجھے ایسا بخار آتا ہے جیسا تمہارے دو مردوں کو آتا ہے ۔ (3)
مرض وصال کی شدت: 
	آپ کے مرض کی ایک شدت یہ بھی تھی کہ بیماری میں آپ پر بیہوشی طاری ہو جاتی تھی پھر افاقہ ہو جاتا تھا، اور ایسا کئی مرتبہ ہوتا، ایک مرتبہ آپ پر بیہوشی طاری ہوئی تو لوگوں نے گمان کیا کہ آپ کو ذاتَ الْجَنْب (یعنی نمونیہ) کا مرض ہے تو انہوں منہ میں دوائی ڈال دی، جب آپ کو افاقہ ہوا تو آپ نے اسے ناپسند فرمایا اورحکم دیا کہ جس نے دوا پلائی ہے اس کو دوا پلائی جائے اور ارشاد فرمایا: اللہ پاک نے مجھے پر اسے (یعنی نمونیہ کے مرض کو )طاری نہیں کیا تھا، البتہ یہ کیفیت اس لقمے کی وجہ سے ہے جو میں نے خیبر کے موقع پر کھایا تھا ۔ (4)یعنی آپ کو یہودی 



________________________________
1 -     ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ماجاء فی غسل الرجل امراتہ      الخ، ۲ /  ۲۰۲، حدیث: ۱۴۶۵
	مسند احمد، مسند السیدة عائشة، ۱۰ /  ۵۹، حدیث: ۲۵۹۶۶ 
2 -     ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب الصبر علی البلاء، ۴ /  ۳۷۰، حدیث: ۴۰۲۴
	مسند ابی یعلی، مسند ابی سعید الخدری، ۱ /  ۴۴۹، حدیث: ۱۰۴۱ 
3 -     بخاری، کتاب المرضی، باب اشد الناس بلاء الانبیاء ثم الاول فالاول، ۴ /  ۵، حدیث: ۵۶۴۸
4 -     مسند احمد، مسند السیدة عائشة، ۹ /  ۴۳۰، حدیث: ۲۴۹۲۴
	الطبقات لابن سعد، ذکر ماسم بہ رسول اللہ، ۲ /  ۱۵۶