دوسری حدیث کے الفاظ یوں ہیں کہ حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے کہا: ہائے میرا سر ۔ سَروَرِ انبیا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اگر یہ میری حیات میں ہوا تو تمہارے لیے استغفار اور دعا کروں گا ۔ حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بولیں: ہائے ہلاکت، رب کی قسم! میں آپ کے متعلق گمان کرتی ہوں کہ آپ میری موت چاہتے ہیں، اگر ایسا ہوگیا تو آپ اس دن کے آخر میں اپنی کسی زوجہ کے ساتھ آرام فرمائیں گے ۔ غمگسار آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: بلکہ ہائے میرا سر ۔ (1)
اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں: پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب میرے دروازے کے پاس سے گزر فرماتے تو اکثر کوئی بات ارشاد فرما جاتے تھے جس سے اللہ پاک مجھے نفع عطا فرماتا، ایک دن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دو یا تین گزر فرمایا لیکن کچھ ارشاد نہیں فرمایا ۔ میں نے کنیز سے کہا: میرے لئے دروازے پر تکیہ رکھ دو ۔ میں نے سر پر پٹی باندھ لی ۔ رحمتِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا میرے پاس سے گزر ہوا تو فرمایا: عائشہ! تمہیں کیا ہوا؟ میں نے عرض کی: آقا! سر میں درد ہے ۔ ارشاد فرمایا: ہائے میرا سر ۔ پھر پیارے مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لے گئے ، تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ آپ کو ایک چادر میں اٹھا کر میرے پاس لایا گیا، آپ نے میرے حجرے میں آ کر اپنی ازواج کو یہ پیغام بھیجا کہ میں بیمار ہوں ۔ اور فرمایا: میں تم سب کے پاس چکر نہیں لگا سکتا لہٰذا مجھے عائشہ کے پاس رہنے کی اجازت دے دو ۔ (2)
اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں: ایک دن رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک جنازے کے بعد جَنَّۃُ الْبقِیْع سے میرے پاس تشریف لائے ، میں درد سر محسوس کر رہی تھی اور کہتی تھی: ہائے رے سر ۔ جانِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: بلکہ ہائے میرا سر ۔ پھر فرمایا: تمہیں کیا نقصان ہوگا اگر تم مجھ سے پہلے مرگئیں کہ میں تم کو غسل دوں، کفن پہناؤں ، تم پر نماز پڑھوں اور تمہیں دفن کروں ؟ میں بولی: خدا کی قسم ! گویا میں آپ کو محسوس کرتی ہوں کہ اگر آپ یہ کرتے تو آپ میرے گھر واپس
________________________________
1 - بخاری، کتاب المرضی، باب قول المریض انی وجع الخ، ۴ / ۱۱، حدیث: ۵۶۶۶
2 - ابو داود، کتاب النکاح، باب فی القسم بین النساء، ۲ / ۳۵۴، حدیث: ۲۱۳۷
مسند احمد، مسند السیدة عائشة، ۱۰ / ۴۴، حدیث: ۲۵۸۹۹