Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
66 - 85
 ہوئے   ایک سیاہ پٹی    سرِ مُقدّس سے والہانہ لپٹی ہوئی تھی، پورے اور آدھے سر کا درد  حیات مبارکہ  میں اکثر حاضرِ خدمت رہتا تھا اور  ہزار جان فدا!  جانِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کچھ دن تکلیف میں رہا کرتے تھے ، (1)سر کا درد اہل ایمان اور اہل جنت کی ایک علامت ہے ۔ 
	 حضور  پُر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جہنمیوں کا  تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:  ” یہ وہ لوگ ہیں  کہ اُن کے سروں میں درد نہیں ہوتا ۔  “ (2) دیہات کا رہنے والا ایک شخص بارگاہ رسالت میں آیا تو مالکِ کونین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے فرمایا: اے  دیہاتی! کیا تمہیں  یہ سر درد ہوا ہے ؟  وہ بولا:  سردرد کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا: انسان کے سر میں   رگیں پھڑکتی ہیں ۔  دیہاتی بولا: مجھے ایسا کبھی محسوس نہیں ہوا ۔  وہ  دیہاتی چلا گیا تو مدنی آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”جو کسی جہنمی  کو دیکھنا چاہے  وہ اِسے دیکھ لے ۔  “ (3)
	حضرت سیِّدُنا کعب الاحبار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں نے تورات شریف میں پڑھا ہے کہ ”اگر یہ نہ ہوتا کہ  میرا مؤمن بندہ غمگین ہوجائے گا تو میں کافر کے سرپر لوہے کی ایسی پٹی باندھ دیتا کہ اسے کبھی سر درد نہ ہوتا ۔  “  اور اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں کہ جب رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مرض وصال شریف کی ابتدا ہوئی اس دن آپ میرے پاس آئے ۔ میں  نے کہا: ہائے میرا سر ۔   میرے سرتاج صاحبِ معراج صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”میں تو چاہتا ہوں کہ  یہ میری (ظاہری) زندگی میں ہی ہوجائے ، میں تمہیں تیار کروں اور دفن کروں “   میں نے غیرت  سے کہا: مجھے لگتا ہے کہ پھر آپ  اُسی دن اپنی کسی اور زوجہ کے ساتھ آرام فرمائیں گے ۔  رحمتِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے  فرمایا: بلکہ ہائے میرا سر !   اپنے والد اور بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں  ابو بکر کے لئے تحریر لکھ دوں  اس خطرہ سے کہ کہنے والے کہیں یا تمنا کرنے والے تمنا کریں اور اللہ پاک  اور مومن ابوبکر کے سوا کسی  پر راضی نہ ہوں گے ۔ (4)



________________________________
1 -     بخاری، کتاب الجمعة، باب من قال فی الخطبة بعد الثناء اما بعد، ۱ /  ۳۱۹، حدیث: ۹۲۷  
2 -     مسند احمد، مسند ابی ھریرة، ۳ /  ۵۸۲، حدیث: ۱۰۶۰۳ 
3 -     مسند احمد، مسند ابی ھریرة، ۳ /  ۲۲۸، حدیث: ۸۴۰۳ 
4 -     مسند احمد، مسند السیدة عائشة، ۹ /  ۴۷۷، حدیث: ۲۵۱۶۷