کے فرمان روا ہوں گے ۔ جبھی حضرات صحابَۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہوئے یہی کہا کہ جنہیں پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمارے دین کے لئے چُنا ہم اُنہیں اپنی دُنیا کے لئے بھی کیوں نہ چُنیں ۔ جب حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: میں نے تمہیں بیعت واپس دی ۔ تو حضرت سیِّدُنا علی المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے عرض کی: ہم نہ آپ کی بیعت واپس لیں گے نہ کبھی اس کا مطالبہ کریں گے ، آپ کو تو رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آگے بڑھایا ہے ، اب آپ کو کون پیچھے ہٹاسکتا ہے ؟!
جب جانِ جہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دُنیا سے پردہ فرمایا اور روئے زمین سے نبوّت کی قالین سمیٹ دی گئی تو نبوّت کے بعد پُوری دُنیا میں سب سے کامل درجہ صدیقیت کا رہا، اور حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سب صدّیقوں کے سردار ہیں لہٰذا آپ ہی خلافت ونیابتِ مصطفے ٰ کے حق دار ٹھہرے ۔
حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارادہ فرما یا تھا کہ حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لئے ایک وصیت لکھ دیں تاکہ ان کے معاملے میں کوئی اختلاف نہ ہو، پھر محبوبِ ربّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے اعراض فرمایا کیونکہ آپ جانتے تھے کہ حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے علاوہ کوئی اور خلیفہ نہیں بنے گا ۔
اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ بھی ارشاد فرمایا: ”اللہ پاک اور مؤمنین ابو بکر کے سوا کسی کو قبول نہیں کریں گے ۔ “ (1)یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس لئے حضرت سیِّدُنا صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خلافت تحریر نہیں فرمائی تاکہ کسی کو یہ وہم نہ ہو کہ صدّیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جو پیارے مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا بہت ساتھ دیا؛ یہ خلافت کی تحریر اُس کا بدلہ ہے ۔ اور (اگرچہ یہ وہم درست نہ ہوتا کیونکہ) اسلامی خلافتیں خلیفہ کے مفاد کے لئے نہیں بلکہ عام مسلمانوں کی بھلائی کے لئے ہوتی ہیں ۔
سردرد کی فضیلت:
غم گُسارآقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مرض کی ابتدا سر مبارک کے درد سے ہوئی، خطبہ ارشاد فرماتے
________________________________
1 - مسلم، کتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل ابی بکر الصدیق، ص ۹۹۹، حدیث: ۶۱۸۱