Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
64 - 85
اَرُوْحُ وَقَدْ خَتَمْتُ عَلٰی فُؤَادِی		بِحُبِّکَ اَنْ یَحِلَّ بِہٖ سِوَاکَا
فَلَوْ اَنِّی اسْتَطَعْتُ غَضَضْتُ طَرْفِی		فَلَمْ اَنْظُرْ بِہٖ حَتّٰی اَرَاکَا

	ترجمہ: میں اپنے دل پر تیری محبت کی مہر لگا کر راحت محسوس کر تا ہوں کہ کہیں تیرے سوا اور کوئی اس میں نہ آبسے ۔ اگر میرے بس میں ہوتا تو اپنی نگاہیں جھکائے رکھوں اور  ان سے تیرے دیدار کے سوا کچھ نہ دیکھوں ۔ 
	پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: مسجد میں  ہر کھڑکی بند کر دی  جائے سوائے ابو بکر کی کھڑکی کے ۔ (1)اور ایک روایت میں ہے کہ  ” مسجد میں کھلنے والے یہ  سب دروازے بند کر دو سوائے ابو بکر کے دروازے کے ۔  “ (2)
حدیثِ پاک اور خلافتِ صدیق اکبر: 
	اس فرمان میں  اشارہ ہے کہ سیّد الانبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  ہی امام وپیشوا ہوں گے کیونکہ مسلمانوں کے امام کو مسجد میں رہائش اور مسجد  کی طرف راستے کی  حاجت ہوتی ہے دیگر لوگوں کو اتنی ضرورت نہیں ہوتی ہے ، امام کے گھر سے مسجد کی طرف راستہ نکلتا ہوگا تو یوں مسجد میں نماز پڑھنے والے مسلمانوں کے لئے آسانی ہوگی ، پھر اس مقصدِ عالی شان کو  رحمتِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے    یوں واضح ارشاد کے ساتھ پختہ فرمادیا کہ ”ابو بکر لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔  “ اس معاملے میں  عرض کی گئی تو  پیغمبرِ خُدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ”ابو بکر کو حکم  پہنچاؤ کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔  “ (3) رحمتِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ہی نماز کی امامت سونپی ۔ اور  اُن کے گھر سے جائے نماز  کا راستہ برقرار رکھا اور  دوسروں کے راستے بند فرمادئیے ۔ اس میں واضح اشارہ ہے کہ  حضرت سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  ہی آپ کے خلیفہ اور امت



________________________________
1 -     ابن حبان، کتاب التاریخ، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم، ۸ /  ۲۰۰، حدیث: ۶۵۶۰
	بخاری، کتاب مناقب الانصار، باب ھجرة النبی واصحابہ الی المدینة، ۲ /  ۵۹۱، حدیث: ۳۹۰۴
2 -     السنة لابن ابی عاصم، باب ما ذکر من فضائل ابی بکر، ص۲۸۵، حدیث: ۱۲۷۷
	بخاری، کتاب الصلاة، باب الخوخة والممرفی المسجد، ۱ /  ۱۷۷، حدیث: ۴۶۷
3 -     بخاری، کتاب الاذان، باب حد المریض ان یشھد الجماعة، ۱ /  ۲۳۷، حدیث: ۶۶۴