کی خلافت میں کوئی اختلاف نہ ہو ۔
فضائلِ صدّیقِ اکبرپر احادیثِ مبارکہ:
آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: بے شک سب لوگوں میں سب سے زیادہ اپنی صحبت اور اپنے مال سے مجھ پر احسان کرنے والے ابو بکر ہیں ۔ (1)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ہم پر کسی کا احسان نہیں مگر ہم نے اس کا بدلہ کردیا سوا ابوبکر کے کہ ہم پر ان کا احسان ہے کہ اللہ انہیں اس کا بدلہ قیامت کے دن دے گامجھے کسی کے مال نے اتنا نفع نہ دیا جتنا ابوبکر کے مال نے نفع دیا ۔ (2)
پھر رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اگر میں زمین والوں میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا لیکن اسلامی بھائی چارہ ہے ۔ (3)
چونکہ رسول پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ پاک کے خلیل ہیں اس لئے مخلوق میں سے کسی کو بھی خلیل بنانا آپ کی شان کے لائق نہ تھا، کیونکہ خلیل وہ ہے جس کے دل میں اپنے خلیل کی محبت یوں سما جائے جیسے جسم میں روح سماتی ہے اور کسی بشر کی ایسی محبت رکھنا رَوا نہیں ۔ جیسا کہ کسی نے کہا:
قَدْ تَخَلَّلْتَ مَسْلَکَ الرُّوْحِ مِنِّی وَ بِذَا سُمِّیَ الْخَلِیْلُ خَلِیْلًا
ترجمہ: تُو میرے جسم میں روح کی مانند سماگیا، جبھی گہرے دوست کو خلیل (یعنی سما جانے والا) کہتے ہیں ۔
جبھی کہا جاتا ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم خَلِیْلُاللہعَلَیْہِ السَّلَام کو بیٹا ذبح کرنے کا حکم دیا گیا، حکم کا مقصود بیٹے کا خون بہانا نہیں تھا بلکہ مقامِ خلیلی کو اُس پاک ذات کے لئے خالی کروانا مقصود تھا جس کا مقامِ خلیلی میں کوئی شریک نہیں ہوسکتا ہے ۔
________________________________
1 - بخاری، کتاب الصلاة، باب الخوخة والممرفی المسجد، ۱ / ۱۷۷، حدیث: ۴۶۶
2 - ترمذی، کتاب المناقب، باب ۱۵، ۵ / ۳۷۴، حدیث: ۳۶۸۱
3 - ترمذی، کتاب المناقب، باب ۱۵، ۵ / ۳۷۴، حدیث: ۳۶۸۱
بخاری، کتاب الصلاة، باب الخوخة والممرفی المسجد، ۱ / ۱۷۷، حدیث: ۴۶۶