Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
62 - 85
وَسَلَّم نے دنیا کے خزانوں اور  دُنیا میں ہمیشہ رہنے کے مقابلے میں اپنے پیارے چاہنے والے رب عَزَّ  وَجَلَّ سے ملاقات کو اختیار فرمالیا ۔ 
	حضرت سیِّدُنا شِبلی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کسی نے پوچھا: کیا  عاشق، دیدارِ محبوب   کے بجائے کسی اور چیز پر راضی ہوتا ہے ؟ تو آپ نے یہ اشعار پڑھے : 
وَ اللہِ لَوْ اَنَّکَ تَوَّجْتَنِی		بِتَاجِ كِسْرٰى مَلِكِ الْمَشْرِقِ
وَ لَوْ بِاَمْوَالِ الْوَرٰى جُدْتَ لِي		اَمْوَالِ مَنْ بَادَ وَ مَنْ قَدْ بَقِي
وَ قُلْتُ لِيْ : لَا نَلْتَقيِ سَاعَةً		اخْتَرْتُ يَا مَوْلَايَ اَنْ نَلْتَقِي

	ترجمہ: خُدا کی قسم!  اگر تم مجھے مشرق کے بادشاہ خسرو کا تاج پہنا دو، اگر تم مجھے اگلوں پچھلوں کا سب مال ودولت دے دو اور کہو کہ ہم گھڑی بھر نہ ملیں گے تو میرے مالک!  میں ان سب چیزوں کو ٹھکراکر تمہارا ملنا پسند کروں گا ۔ 
اپنے یار غار کو دِلاسہ: 
	 منبر شریف پر پیارے آقا مدینے والے مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے  دنیاوی زندگی  کے بجائے ملاقاتِ الٰہی  اختیار کرنے کی طرف اشارہ فرمایا اور صراحت کے ساتھ بیان نہ  فرمایا  تو بہت سے سننے والوں کے سامنے معنیٰ   ظاہر نہ ہوا اور  آپ کے خاص صحابی کے سوا کوئی بھی اس بات کے اصلی مقصد تک نہ پہنچا، وہ خاص دوست جن کے متعلق ارشاد ہوتا ہے : 
ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ (پ۱۰، التوبة: ۴۰)            ترجمۂ کنز الایمان: (محبوب کو باہر تشریف لے جانا ہوا) صرف دو جان سے جب وہ دونوں غار میں تھے ۔
	یارِ غار ومزار، حبیبِ محبوبِ پروردگار، حضرت سیِّدُنا  صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  مقاصد ِ مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو پُوری امّت سے زیادہ سمجھتے تھے ، چنانچہ جب  صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے  اشارۂ نبوی کا مقصد سمجھا تو  اشکبار ہوگئے اور عرض کرنے لگے : بلکہ  ہمارے مال، ہماری جانیں اور ہماری اولادیں آپ پر قربان یارسولَ اللہ ۔  امت پر کمال مہربان آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اپنے یارِ غار، صدیقِ جاں نثار کو دلاسہ دینے لگے اور بَرسرِ منبر  اُن کی  تعریفیں بیان فرمانے لگے تاکہ   سب لوگوں کو  اُن کی فضیلت  معلوم ہوجائے اور آپ