Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
61 - 85
	حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ  سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  مرض وصال شریف میں  ہمارے پاس تشریف لائے ، رُوحِ روانِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سرِ مُبارک پر پٹی باندھی ہوئی تھی،  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے منبر پر کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا:  ” بلا شبہ ایک بندے  کے سامنے دنیا اور اس کی زینت پیش کی گئی تو اس نے آخرت کو چُن لیا ۔  “   راوی کہتے ہیں:  بات  کی حقیقت تک حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سوا  کوئی نہ پہنچا،  صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان!  بلکہ  ہمارے مال، ہماری جانیں اور ہماری اولادیں آپ پر قربان ۔ راوی کہتے ہیں:  پھر  حضورِ پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم منبر سے  نیچے تشریف لے آئے اور  پھر اس گھڑی کے بعد منبر شریف پر  آپ کا دیدار نصیب نہ ہوا ۔ (1)
 آخرت کو ترجیح: 
	مروی ہے کہ ایک رات حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بقیع تشریف لے گئے اور بقیع والوں کے لئے دعائے مغفرت کی،  فرمایا:  ” لوگوں جیسے حال کے بجائے یہ حال تمہیں  مبارک ہو! تاریک رات جیسے فتنے  پے درپے آ رہے ہیں  ایک کے پیچھے  ایک فتنہ ہے اور ہر بعد والا فتنہ پہلے  فتنے سے زیادہ  بُرا ہے ۔  “  حضرت سیِّدُنا ابو مویہبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کہتے ہیں: پھر حضور نبی  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے  فرمایا: ”اے ابو مویہبہ !  بلا شبہ مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں،  ہمیشہ کی زندگی  اور پھر جنت عطا کی گئی، پھر اس کے اور اپنے رب سے ملاقات کے  بیچ مجھے اختیار دیا گیا تو میں نے  رب عَزَّ  وَجَلَّ کی ملاقات اور جنت کو اختیار کیا ۔  “  پھر آپ وہاں سے روانہ ہو گئے ، پھر آپ کو وہ تکلیف شروع ہوگئی جس میں اللہ پاک نے آپ  کو اپنے پاس بُلالیا ۔ (2)
	 جیسے جیسے  محبوبِ کبریا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی معرفت الٰہی  میں اضافہ ہوتا رہا ویسے ویسے دلِ مُقدّس میں اللہ پاک سے محبت اور اس سے ملاقات کا شوق  بڑھتا گیا،   لہٰذا جب  جانِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دنیا میں  قیام فرمانے اور  پاک رب عَزَّ  وَجَلَّ سے  ملاقات کے  بیچ اختیار دیا گیا  تو  محبوبِ ربّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ 



________________________________
1 -     مسند احمد، مسند ابی سعید الخدری، ۴ /  ۱۸۱، حدیث: ۱۱۸۶۳
2 -     مسند احمد، مسند المکیین، ۵ /  ۴۱۶، حدیث: ۱۵۹۹۷