وصال ظاہری کی خبر:
حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی عمر مبارک کے آخری حصے میں اپنا وصال قریب ہونے کی طرف اشارہ فرماتے رہے ، پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حجۃ الوداع کا خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے ارشاد فرمایا: ”مجھ سے اپنے ارکانِ حج سیکھ لو شاید اس سال کے بعد میں تمہیں نہ ملوں ۔ “ اور رحمتِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لوگوں کو الوداع کہنے لگے اس پر لوگ بولے : یہ حجۃ الوداع یعنی رخصتی والا حج ہے ۔ (1)جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حج کر کے مدینہ المنورہ لوٹے تو مَکۂ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ”خُم “ نامی گھاٹ پر لوگوں کو جمع کیا اور خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ” لوگو! میں ایک بشر ہوں، قریب ہے کہ میرے پاس بھی رب کا قاصد آئے اور میں اس کی درخواست قبول کر لوں ۔ “ پھر معلِّم کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کتابُ اللہکو تھامنے کی ترغیب اور اپنے اہل بیت کے بارے میں وصیت ارشاد فرمائی ۔ (2)
دُنیا یا رب سے ملاقات:
پھر جب آپ کے مرضِ وصال شریف کی ابتدا ہوئی تو رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اختیار دیا گیا کہ چاہیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ملاقات کریں یاجب تکاللہ پاک چاہے دُنیا کی شادابی میں رہیں، پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اللہ پاک کی ملاقات کو اختیار کیا اور لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے اس طرف اشارہ فرمایا ۔
شہنشاہِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مرض شریف کی ابتدا ماہ صفر کے آخری دنوں میں ہوئی مشہور قول کے مطابق جان کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم 13 دن تک مرض وصال شریف میں رہے ۔ ایک قول 14 دن کا ہے ، ایک قول 12 دن کا ہے اور ایک قول 10 دن کا بھی ہے اور یہ قولِ غریب ہے ۔
آخری خطبہ:
اور حضرت سیِّدُنا ابو سعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا خطبہ جس پر ہم یہاں گفتگو کریں گے ، وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مرض کی ابتدا میں تھا ۔
________________________________
1 - مسلم، کتاب الحج، باب استحباب رمی جمرة العقبة الخ، ص ۵۱۸، حدیث: ۳۱۳۷
2 - مسلم، کتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل علی بن ابی طالب، ص ۱۰۰۸، حدیث: ۶۲۲۵