Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
59 - 85
	 حدیث شریف میں آتا ہے :  ” مَوتوں کا اکھاڑا ساٹھ سے ستر کے بیچ ہے ۔  “ (1)
	 حدیثِ پاک میں  فرمایا گیا: ”ہر شے کی کٹائی کا ایک وقت ہوتا ہے اور میری امت کی کٹائی کا وقت ساٹھ سے ستر کے درمیان ہے ۔  “ (2)اور عمر مبارک کے اسی حصے میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے دُنیا سے پردہ فرمایا ۔ 
	  حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں: جو  جانِ جہان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی (ظاہری ) عمر کو پہنچ گیا  وہ اپنے لئے کفن تیار رکھے ۔ 
وَ اِنَّ امْرَأً قَدْ سَارَ سِتِّیْنَ حَجَّۃً		اِلٰی مَنْھَلٍ مِنْ وُرْدِہٖ لَقَرِیْبُ

	ترجمہ: بلاشبہ  جو آدمی منزل کی طرف ساٹھ سال سفر کرچکا وہ جلد ہی (موت کے ) گھاٹ اُترنے والا ہے ۔ 
فضیل بن عیاض عَلَیْہِ الرَّحْمَہکی نصیحت: 
	حضرت سیِّدُنا فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک شخص سے پوچھا: تمہاری عمر کتنی ہے ۔   عرض کی: ساٹھ سال ۔ آپ نے  فرمایا: تم ساٹھ سال سے اپنے رب کی بارگاہ کی طرف جا رہے ہو  اب بس پہنچنے ہی والے ہو ۔  وہ بولا: انا للہ و انا الیہ راجعون (ہم اللہ کے ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ہے ) ۔ حضرت سیِّدُنا فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: جس نے جان لیا کہ وہ اللہ پاک کا بندہ ہے اور اسی کی طرف اس نے جانا ہے تو اسے یہ بھی جان لینا چاہئے کہ اسے   ٹھہرایا جائے گا اور  باز پُرس ہوگی، لہٰذا  وہ جواب  تیار کرلے ۔ اس شخص نے  عرض کی:   پھر بچت  کیسے ہوگی؟  فرمایا: بہت آسان  طریقہ ہے ۔  عرض کی: وہ کیا ہے ؟  فرمایا:  جو بچ گئی ہے اُسے اچھا کرلو تو جو گزر گئی ہے وہ بھی معاف ہوجائے گی اور اگر بچی زندگی میں بُرائی رکھی تو سب اگلی پچھلی پہ پکڑ ہوگی ۔ 
خُذْ فِیْ جِدٍّ فَقَدْ تَوَلّٰی العُمْرُکَمْ                                                                                       ذَا التَّفْرِیْطُ قَدْ تَدَانِی الاَمْرُ		
اَقْبِلْ فَعَسٰی یُقْبَلُ مَنْکَ العُذْرُ		کَمْ تَبْنِی، کَمْ تَنْقُضُ، کَمْ ذَا الْغَدْرُ


	ترجمہ: سنجیدہ ہوجا کہ عمر گزر گئی ہے ، آخر یہ کوتاہی کب تک چلے گی؟ معاملہ قریب آگیا ہے ، بارگاہِ الٰہی میں لوٹ آ!  بہت امید ہے کہ تیرا عذر مان لیا جائے گا، تُو کس قدر بنائے گا اور توڑے گا؟ آخر کب تک بے وفائی کرے گا؟! 



________________________________
1 -     مسند ابی یعلی، مسند ابی ھریرة، ۵ /  ۴۸۸، حدیث: ۶۵۱۲
2 -     ابن عساکر، رقم۵۲۴۷، ابو حفص عمر بن عبیداللہ، ۴۵ /  ۲۸۵، حدیث: ۹۸۷۹