ترجمہ: گزرتی جوانی اور آتابڑھاپا موت کے قریب ہونے کا اعلان کرتے ہیں ۔ کیا لذتوں کے خاتمے کے بعد کوئی عقل مند زندگی کی امید رکھ سکتا ہے ؟جب حوادث زمانہ کے ریلے میں آدمی کے ساتھی کُوچ کر جائیں تو وہ خود بھی تیاری کرلے ۔
فرشتے کی ندا:
حضرت سیِّدُنا وہیب بن ورد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اللہ پاک کا ایک فرشتہ ہر دن اور رات آسمان سے پچاس سال والوں کو پکارتا ہے : وہ کھیتی جس کی کٹائی قریب آچکی ۔ ساٹھ سال والوں کو پُکارتا ہے : حساب دینے کے لئے آؤ ۔ ستر سال والوں کو پُکارتا ہے : تم نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا؟ اور اَسّی سال والوں کو پکارتا ہے : تمہارے پاس کوئی عذر نہیں بچا ۔ حضرت سیِّدُنا وہب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: پُکارنے والا پُکارتا ہے : ساٹھ سال والو! خود کو مُردوں میں شمار کرو ۔
سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اللہپاک نے اس شخص کے لئے کوئی عذر باقی نہیں رکھا جس کی موت پیچھے رکھی کہ وہ 60 سال کو پہنچ گیا ۔ (1)
ایک دوسری حدیث پاک میں ہے کہ جب قیامت کا دن آئے گا تو ندا دی جائے گی: ”ساٹھ سال والے کہاں ہیں ۔ “ یہ وہ عمر ہے جس کے بارے میں اللہپاک نے ارشاد فرمایا:
اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ (پ۲۲، فاطر: ۳۷) ترجمۂ کنز الایمان: اور کیا ہم نے تمہیں وہ عمر نہ دی تھی جس میں سمجھ لیتا جسے سمجھنا ہوتا ۔ (2)
امتِ محمدیہ کے افراد کی عمریں:
ایک حدیثِ پاک میں ہے ، رحمتِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ” میرے امتیوں کی عمریں 60 سے 70 کے درمیان ہیں اور اس سے زیادہ عمر والے ان میں بہت تھوڑے ہوں گے ۔ “ (3)
________________________________
1 - بخاری، کتاب الرقاق، باب من بلغ ستین سنة الخ، ۴ / ۲۲۴، حدیث: ۶۴۱۹
2 - معجم کبیر، ۱۱ / ۱۴۲، حدیث: ۱۱۴۱۵
3 - ترمذی، کتاب الدعوات، باب۱۰۱ ، ۵ / ۳۲۳، حدیث: ۳۵۶۱