ذِکرُاللہ کی کثرت:
اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا ام سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں: رحمتِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حیاتِ ظاہری کے آخری زمانے میں اٹھتے ، بیٹھتے ، چلتے پھرتے ، آتے جاتے ہر وقت پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ”سُبْحٰنَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ “ کا وِرْد فرماتے تھے ، میں نے بارگاہِ رسالت میں یہ بات عرض کی تو ارشاد فرمایا: ”مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے ۔ “ پھر پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہی سورۃ النصر تلاوت فرمائی ۔ (1)
اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں کہ شہنشاہِ بحر وبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے وصال شریف سے پہلے کثرت سے ”سُبْحٰنَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُ اللہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہ “ کا وِرْد فرماتے تھے ۔ میں نے بارگاہِ رحمت میں عرض کی: آپ وہ دُعا پڑھ رہے ہیں جو آج سے پہلے نہ پڑھتے تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا: ”میرے رب نے مجھے خبر دی ہے کہ عنقریب میں اپنی امت میں نشانی دیکھوں گا اور جب اس نشانی کو دیکھوں تو اللہ پا ک کی حمد اور اس سے استغفار کروں اور میں نے وہ نشانی دیکھ لی ہے ۔ “ پھر معلِّم کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہی سورت تلاوت فرمائی ۔ (2)
ہم گناہ گاروں کو نصیحت:
جب سَیِّدُ الْمُحْسِنِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد ہوا کہ اپنے اعمال کا اختتام نیکیوں پر کریں تو ہم جیسے گناہوں میں لتھڑے ہوئے گنہگار سیاہ کار کا کیا حال ہوگاجسے پاکیزگی کی بہت حاجت ہے ؟ جسے کسی اشارے نے موت کے قریب ہونے سے نہ ڈرایا اُسے بڑھاپے نے ضرور ڈرایا، اُسے دوستوں کی موت نے ضرور ڈرایا ۔
كَفٰى مُؤْذِنًا باِقْتِرَابِ الْاَجَلِ شَبَابٌ تَوَلَّى وَ شَيْبٌ نَزَل
وَ مَوْتُ اللَّذَاذَۃِ هَلْ بَعْدَهُ بَقَاءٌ يُؤَمِّلُهُ مَنْ عَقَل
اِذَا ارْتَحَلَتْ قُرَنَاءُ الْفَتَى عَلٰى حُكْمِ رَيْبِ الْمَنُوْنِ ارْتَحَل
________________________________
1 - تفسیر طبری، پ۳۰، النصر، تحت الایة: ۳، ۱۲ / ۷۳۱، حدیث: ۳۸۲۴۸
2 - مسلم، کتاب الصلاة، باب مایقال فی الرکوع والسجود، ص۱۹۸ ، حدیث: ۱۰۸۶، ۱۰۸۸، بتغیر قلیل