ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا: ہاں ۔ اُس نے پوچھا: پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنے وصال شریف کے متعلق کیسے معلوم ہوا؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے وصال کی علامت اس سورت کو بنایا تھا:
اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ(۱) (پ۳۰، النصر: ۱) ترجمۂ کنز الایمان: جب اللّٰہ کی مدد او ر فتح آئے ۔
فتح سے مراد فتح مکہ ہے ۔
وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ(۲) (پ۳۰، النصر: ۲) ترجمۂ کنز الایمان: اور لوگوں کو تم دیکھو کہ اللہ کے دین میں فوج فوج داخل ہوتے ہیں ۔
(حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا) یہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال کی علامت ہے آپ اپنے وصال شریف کی خبر حضرت سیِّدَتُنا فاطمہ زہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو دے چکے تھے ۔
سورت کا مطلب یہ ہے کہ اے محمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)! جب اللہ پاک تمہیں شہروں پر غلبہ عطا فرمائے اور جس دین کی تم نے لوگوں کو دعوت دی لوگ اس میں فوج در فوج آئیں تو حمد اور استغفار کرتے ہوئے ہماری ملاقات کے لئے تیار ہوجاؤ کیونکہ جو پیغام الٰہی پہنچانے اور تبلیغ کرنے کا تمہیں حکم فرمایا گیا تھا اُس کا مقصد پورا ہو چکا ہے اور ہمارے پاس جو ہے وہ آپ کے لئے دنیا سے بہتر ہے ، لہٰذا ہمارے پاس آنے کے لئے تیاری کر لو ۔
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں: سورۃ النصر کے ذریعے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنے وصال شریف کی خبر دی گئی تو اس کے بعد پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُخروی معاملے میں بہت زیادہ مجاہدہ فرمانے لگے ۔
عبادت میں اضافہ:
حدیثِ پاک میں آتا ہے کہ پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس قدر عبادت کرتے رہے کہ جسمِ نازنین بہت کمزور ہوگیا، آپ ہر سال حضرت سیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کو ایک مرتبہ قرآن پاک سنایا کرتے تھے لیکن اُس سال دو مرتبہ قرآنِ پاک سُنایا، یونہی آپ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ السَّلَام ہر سال رمضان المبارک کے آخری عشرے (دس دِنوں) کا اعتکاف کیا کرتے تھے لیکن اس سال 20 دنوں کا اعتکاف کیا اور ذکر اللہ و استغفار کی کثرت کرنے لگے ۔