Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
55 - 85
روح قبض کی گئی تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: تم نے موت کو کیسا پایا؟ آ پ نے عرض کی: گویا کہ وہ ایک جھلی تھی جسے کھینچا گیا ۔ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: حالانکہ ہم نے تمہارے لئے موت کو آسان کیا تھا ۔ 
	حضرت سیِّدُنا ابو اسحاق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا موسٰی عَلَیْہِ السَّلَام سے کہا گیا: آپ نے موت کا ذائقہ کیسا پایا؟ آپ نے کہا: میں نے خود کو چڑیاکی مانند پایا ۔ جس طرح مڑے ہوئے دندان والی لوہے کی سلاخ کو روئی میں رکھ کر کھینچ لیا جائے ۔ ارشاد ہوا: جبکہ ہم نے تم پر موت کو آسان کیا تھا ۔ 
سیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَامکا خوف: 
	 روایت ہے کہ  حضرت سیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام كو موت  یاد آتی تو آپ کی جلد سے خون ٹپکنے لگتا تھا، آپ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے حواریوں سے فرماتے تھے : اللہ پاک سے دعا کرو کہ وہ مجھ پر موت کو آسان فرمائے کیونکہ مجھے موت کا خوف ایسا ہے کہ لگتا ہے یہ خوف ہی مجھے مار  ڈالے گا ۔ 
	  زندہ رہنے کی آس کیوں رکھیں؟ جبکہ ہر نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دُنیا سے رخصتی ہے ،  ہلاکتوں کے حملے سے  بے خوف  کیسے رہیں؟ جبکہ  دوست اور پیارے بھی نہ بچ سکے ، ہائے افسوس!  ہائے افسوس!  ۔ 
قَدْ مَاتَ كُلُّ نَبِيٍّ		وَ مَاتَ كُلُّ  نَبِيْه
وَ مَاتَ كُلُّ شَرِيْفٍ		وَ عَاقِلٍ وَ سَفِیْه
لَا يُوْحِشَنْكَ طَرِيْقٌ		كُلُّ الْخَلَائِقِ فِيْه

	ترجمہ: ہر نبی کا وصال ہوا اور ، ہر ہوشیار کو موت آئی ۔   ہر معزز، ہر عقل مند اور  ہر بے وقوف  کا انتقال ہوا ۔ اُس راستے (یعنی موت کی وادی) سے نہ ڈرو جس پر ہر مخلوق کا گزر ہے ۔ 
 وقتِ رخصت: 
	  جانِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو عمرِ مبارک کے اختتام اور وقتِ رخصت کے متعلق سورۂ نصر کے ذریعے ارشاد فرمایا گیا ۔ کسی نے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے  پوچھا: کیا رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو علم تھا کہ آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دُنیا سے کب پردہ فرمائیں گے ؟  حضرت سیِّدُنا