Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
54 - 85
كُلُّنَا فِیْ غِفْلَةٍ وَ الْمَـ 		وْتُ يَغْدُوْ وَ يَرُوْحُ 
لِبَنِى الدُّنْيَا مِنَ الْمَـ		وْتِ غَبُوْقٌ وَ صَبُوْحُ 
سَيَصِيْرُ الْمَرْءُ يَوْمًا		جَسَدًا مَا فِيْهِ رُوْحُ 
بَيْنَ عَيْنَيْ كُلِّ حَيٍّ		عَلَمُ الْمَوْتِ يَلُوْحُ 
نُحْ عَلٰى نَفْسِكَ يَا مِسْكِـ		يْنُ اِنْ كُنْتَ تَنُوْحُ
لَتَمُوْتَنَّ وَ لَوْ عُمِّـ		رْتَ مَا عُمِّرَ نُوْحُ

	ترجمہ: (۱)…ہم سب غفلت میں ہیں جبکہ موت صبح شام آ رہی ہے ۔ (۲)…دنیا والوں کو موت کا جام صبح بھی پینا ہے اور شام بھی ۔ (۳)…عنقریب  کسی دن آدمی بے روح کا جسم  رہ  جائے گا ۔ (۴)…ہر زندہ شخص کی  آنکھوں کے  درمیان موت کا نشان  چمک رہا ہے ۔ (۵)…اے مسکین!  اگر تجھے رونا ہی ہے تو اپنی جان پر رو (۶)…اگرچہ تو حضرت سیِّدُنا نوح عَلَیْہِ السَّلَامجتنی عمر پا لے تب بھی تجھے  ضرورمرنا ہے ۔ 
انبیاء کرام کو موت کی  پیشگی اطلاع: 
	چونکہ موت کی بہت زیادہ سختی اور مشقت کی وجہ سے طبیعت اِسے  نا پسند کرتی ہے لہذا ہر نبی عَلَیْہِ السَّلَامکو وصال سے پہلے اختیار دیا جاتا ہے اور اسی لئے مؤمن کو موت دینے میں تردد واقع ہوا، جیسا کہ حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے : ”میں کسی کام کے کرنے میں کبھی اس طرح تردد نہیں کرتا جس طرح جانِ مومن قبض کرتے وقت  ترددکرتا ہوں کہ وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور میں اس کے مکروہ سمجھنے کو بُرا جانتا ہوں ۔  “ حالانکہ موت بھی اس کے لیے ضروری ہے ۔ (1)
موت کو کیسا پایا؟
	حضرت سیِّدُنا ابنِ اَبی مَلِیْکَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی 



________________________________
1 -     بخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع، ۴ /  ۲۴۸، حدیث: ۶۵۰۲
	نوادر الاصول، الاصل الرابع والستون والمائة، ۱ /  ۶۴۲، حدیث: ۸۹۹، عن انس