(۲)…اپنے اُخروی ٹھکانے میں پہنچنے سے پہلے ہی اُسے یاد رکھ اور فضولیات و لذتوں کو چھوڑکراللہتعالیٰ کی طرف رجوع کر ۔
(۳)…موت کے لئے ایک وقت مقرر ہے لہٰذاتو دنوں اور گھڑیوں کی مصیبتوں کو یاد رکھ ۔
(۴)…اے عقلمند! دنیا اور اس کی زینت وآرائش پر مطمئن نہ ہو کہ اب موت آیا ہی چاہتی ہے ۔
بارگاہِ الٰہی میں کھڑے ہونے کا ڈر:
ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: دو چیزوں نے میری دنیا کی لذت ختم کر دی: (۱)موت کی یاد اور (۲)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حضور کھڑے ہونے کا ڈر ۔
وَ كَيْفَ يَلَذُّ الْعَيْشَ مَنْ كَانَ مُوْقِنًا بِاَنَّ الْمَنَايَا بَغْتَةً سَتُعَاجِلُه
وَ كَيْفَ يَلَذُّ الْعَيْشَ مَنْ كَانَ مُوْقِنًا بِاَنَّ اِلٰهَ الْخَلْقِ لَا بُدَّ سَائِلُه
ترجمہ: (۱)… اسے زندگی کا مزہ کیسے آسکتا ہے جسے یقین ہو کہ اُسے بہت جلد اوراچانک موت آ جائے گی ۔
(۲)…اور وہ زندگی کالطف کیسے اٹھا سکتا ہے جسے یقین ہو کہ ساری مخلوق کا معبود اس سے ضرورحساب لے گا ۔
نصیحت کے لئے موت کافی ہے :
حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: نصیحت کے لئے موت اور جدائی ڈالنے کے لیے زمانہ کافی ہے ، آج گھروں میں ہیں تو کل قبروں میں ہوں گے ۔
اُذْكُرِ الْمَوْتَ وَ لَازِمْ ذِكْرَهُ اَنَّ فِي الْمَوْتِ لِذِي اللُّبِّ عِبَر
وَ كَفٰى بِالْمَوْتِ فَاعْلَمْ وَاعِظًا لِمَنِ الْمَوْتُ عَلَيْهِ قَدْ قُدِر
ترجمہ: (۱)…موت کو یاد کرو اور اس کا ذکر لازم کر لو کیونکہ موت میں عقلمند کے لئے عبرت ہے ۔
(۲)…جان لو کہ جس کے لیے موت لکھی جاچکی اُسے نصیحت کے لیے موت ہی کافی ہے ۔
لمبی امید موت سے غافل کرتی ہے :
موت کا آنا طے شدہ ہے اس کے باوجود انسان کا موت سے غافل ہونا تعجب خیز ہے اور اس کا سبب لمبی امید ہے ۔ شاعر کہتے ہیں: