Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
53 - 85
(۲)…اپنے اُخروی ٹھکانے میں پہنچنے سے پہلے ہی اُسے یاد رکھ اور فضولیات و لذتوں کو چھوڑکراللہتعالیٰ کی طرف رجوع کر ۔ 
(۳)…موت کے لئے ایک وقت مقرر ہے لہٰذاتو دنوں اور گھڑیوں کی مصیبتوں کو یاد رکھ ۔ 
(۴)…اے عقلمند!  دنیا اور اس کی زینت وآرائش  پر مطمئن نہ ہو کہ اب موت آیا ہی چاہتی ہے ۔ 
بارگاہِ الٰہی میں کھڑے ہونے کا ڈر: 
	ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: دو چیزوں نے میری دنیا کی لذت ختم کر دی: (۱)موت کی یاد اور (۲)اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حضور کھڑے ہونے کا ڈر ۔ 
وَ كَيْفَ يَلَذُّ الْعَيْشَ مَنْ كَانَ مُوْقِنًا		بِاَنَّ الْمَنَايَا بَغْتَةً سَتُعَاجِلُه 
وَ كَيْفَ يَلَذُّ الْعَيْشَ مَنْ كَانَ مُوْقِنًا		بِاَنَّ اِلٰهَ الْخَلْقِ لَا بُدَّ سَائِلُه

ترجمہ: (۱)… اسے زندگی کا مزہ کیسے آسکتا ہے جسے یقین ہو کہ اُسے بہت جلد اوراچانک موت آ جائے گی ۔ 
(۲)…اور وہ زندگی کالطف کیسے اٹھا سکتا ہے جسے یقین ہو کہ ساری مخلوق کا معبود اس سے ضرورحساب لے گا ۔ 
نصیحت کے لئے موت کافی ہے : 
	حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: نصیحت کے لئے موت اور جدائی ڈالنے کے لیے زمانہ کافی ہے ، آج گھروں میں  ہیں تو کل قبروں میں ہوں گے ۔ 
اُذْكُرِ الْمَوْتَ وَ لَازِمْ ذِكْرَهُ                       اَنَّ فِي الْمَوْتِ لِذِي اللُّبِّ عِبَر		
وَ كَفٰى بِالْمَوْتِ فَاعْلَمْ وَاعِظًا		لِمَنِ الْمَوْتُ عَلَيْهِ قَدْ قُدِر

ترجمہ: (۱)…موت کو یاد کرو اور اس کا ذکر لازم کر لو کیونکہ موت میں عقلمند کے لئے عبرت ہے ۔ 
(۲)…جان لو کہ  جس کے لیے موت لکھی جاچکی اُسے نصیحت کے لیے موت ہی کافی ہے ۔ 
لمبی امید موت سے غافل کرتی ہے : 
	موت کا آنا طے شدہ ہے اس کے باوجود انسان کا موت سے غافل ہونا تعجب خیز ہے اور اس کا سبب لمبی امید ہے ۔ شاعر کہتے ہیں: