صحائف موسٰی کی عبرت انگیز باتیں:
حضرت سیِّدُناابو ذر غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مرفوعا روایت ہے کہ ”حضرت موسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کے صحیفے تمام کے تمام عبرت انگیز باتوں پر مشتمل تھے (مثلاً): ”مجھے اس پر تعجب ہے جسے موت کا یقین ہے پھر بھی وہ خوش ہوتا ہے ، میں اس پر حیران ہوں جو جہنم پر یقین رکھتا ہے پھر بھی ہنستا ہے ، مجھے اس پر حیرانی ہے جسے تقدیر کا یقین ہے پھر بھی خود کو تھکاتا ہے اور مجھے اس پرتعجب ہے جو دنیا اور دنیا داروں پر دنیا کا پلٹنا دیکھتا رہتا ہے پھر بھی اس سے مطمئن ہوتا ہے ۔ “ (1)مروی ہے کہ سورہ کہف کی آیت نمبر82میں جو دولڑکوں کے خزانے کا ذکر ہے دراصل وہ ایک سونے کی تختی تھی اور اس پر بھی یہ نصیحت لکھی ہوئی تھی ۔
حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: ”بے شک موت نے اہل نعمت کی نعمتوں میں فساد برپا کردیا ہے ، لہٰذا تم وہ زندگی طلب کرو جس میں موت نہ ہو ۔ “ اورآپ ہی نے فرمایا: ”موت نے دنیا کو ایسا رسوا کیا کہ کسی عقلمند کے لئے اس میں کوئی خوشی نہیں چھوڑی ۔ “
ایک بزرگ نے فرمایا: موت کی یاد نے پوری زندگی کی لذت اور تمام نعمتوں کا چین ختم کر کے رکھ دیا ہے ۔ یہ کہہ کر وہ رونے لگے پھر فرمایا: کیا بات ہے اُس گھر کی جس میں موت نہیں ۔
اُذْکُرِ الْمَوْتَ ھَاذِمَ اللَّذَّاتِ وَتَھَیَّاْ لِمَصْرَعٍ سَوْفَ یَاْتِی
ترجمہ: موت کو یاد کرو جو لذتوں کو ختم کرنے والی ہے اور اس موت کے لئے تیاری کرو جو عنقریب آنے والی ہے ۔
ایک شاعر نے یوں نصیحت کی ہے :
يَا غَافِلَ الْقَلْبِ عَنْ ذِكْرِ الْمَنِيَّاتِ عَمَّا قَلِيْلٍ سَتُلْقٰى بَيْنَ اَمْوَاتِ
فَاذْكُرْ مَحَلَّكَ مِنْ قَبْلِ الْحُلُوْلِ بِهٖ وَ تُبْ اِلَى اللهِ مِنْ لَهْوٍ وَ لَذَّاتِ
اِنَّ الْحِمَامَ لَه‘ وَقْتٌ اِلٰى اَجَلٍ فَاذْكُرْ مَصَائِبَ اَيَّامٍ وَ سَاعَاتِ
لَا تَطْمَئِنَّ اِلَى الدُّنْيَا وَ زِيْنَتِهَا قَدْ اٰنَ لِلْمَوْتِ يَا ذَا اللُّبِّ اَنْ يَاْتِي
ترجمہ: (۱)…اے موت کی یاد سے غافل دل! تھوڑے ہی عرصہ میں تو مُردوں کے درمیان ہو گا ۔
________________________________
1 - ابن حبان، کتاب البر والاحسان، باب ماجاء فی الطاعات وثوابھا، ۱ / ۲۸۸، حدیث: ۳۶۲