Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
51 - 85
موت کی کیفیت کو سکرات کہنے کی وجہ: 
	مرنے والے کو  موت کی سختی کے ساتھ ساتھ دنیا چھوٹنے کی حسرت بھی ہو گی ۔ اس کے برے حال کے بارے میں مت پوچھو ۔ 	اللہ تعالیٰ نے اسے ”سَکْرَۃ(یعنی سختی) “  کا نام دیا ہے کیونکہ موت کی دردناکی کے ساتھ جمع ہونے والی تکالیف مرنے والے کومدہوش کر دیتی ہیں جس سے ا کثراس کی عقل چلی جاتی ہے ۔ ارشاد باری ہے : 
وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّؕ- (پ۲۶، قٓ: ۱۹)	ترجمۂ کنز الایمان: اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ ۔
	ایک شاعر سمجھاتا ہے : 
اَلَا لِلْمَوْتِ كَاْسٌ اَيُّ كَاْسٍ		وَ اَنْتَ لِكَاْسِهِ لَا بُدَّ حَاسِي 
اِلٰى كَمْ وَ الْمَمَاتُ اِلٰى قَرِيْبٍ		تُذَكَّرُ بِالْمَمَاتِ وَ اَنْتَ نَاسِي

ترجمہ: خبردار موت کا ایک پیالہ ہے وہ پیالہ چاہے جیسا بھی ہو ، تم ضرور اس پیالے سے گھونٹ گھونٹ پیو گے ۔ تمہیں کب تک موت کی یاد دلائی جاتی رہے گی حالانکہ موت قریب ہے اور تم اسے بھلائے ہوئے ہو ۔ 
لذتوں کو ختم کرنے والی: 
	حضور نبی پاک ، صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے موت کو کثرت سے یاد کرنے کا حکم  دیا ہے ، چنانچہ آپ نے  ارشاد فرمایا: ”لذتوں کو ختم کرنے والی  موت کو کثرت سے یاد کیا کرو ۔  “ (1)
	ایک بار حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا گزر ایک مجلس کے پاس سے ہوا جس میں ہنسی کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں، آپ نے ارشاد فرمایا: ”اپنی مجلسوں میں لذتوں کو بے  مزہ کرنے والی موت کو بھی شامل کر لو ۔  “ (2)
موت کویاد رکھنے کے فائدے : 
	موت کو بکثرت یاد رکھنے میں بہت سے فوائد ہیں، بعض یہ ہیں کہ  یہ موت آنے سے پہلے موت کی تیاری کرنے پر ابھارتا ، امید کو کم کرتا، تھوڑی روزی پر مطمئن کرتا، دنیا سے بے رغبت اورآخرت کی طرف مائل کرتا ، دنیا وی مصیبتوں کو ہلکا و آسان کرتا اور ناشکری، تکبر اور لذاتِ دنیا کی کثرت سے روکتا ہے ۔ 



________________________________
1 -     ترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء فی ذکر الموت، ۴ /  ۱۳۸، حدیث: ۲۳۱۴
2 -     موسوعة ابن ابی الدنیا، کتاب ذکر الموت، ۵ /  ۴۲۳، حدیث: ۹۵