Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
50 - 85
 ہمارا مال، ہمارے  گھر والے اور ہماری اولادیں  سب عاریت یعنی  عارضی ہیں ۔ (۳)… اور ہماری جانیں جلد موت کی نذر ہونے والی ہیں ، دینے والا عنقریب یہ سب واپس لے لے گا ۔ 
روح تکلیف کے ساتھ کیوں نکلتی ہے ؟
	جسم و روح کی جدائی بڑی تکلیف کے بعد ہوتی ہے جس کا ذائقہ جسم و روح دونوں ہی چکھتے ہیں، کیونکہ روح کا اس جسم کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اور وہ اس سے مانوس ہوتی ہے اور روح کی جسم سے انسیت، اس کا جسم سے ملنا اور اس میں داخل ہونا انتہائی شدت کے ساتھ ہوتا ہے یہاں تک کہ دونوں شے واحد کی طرح ہوجاتے ہیں  اسی لئے ان کی جدائی انتہائی شدت اور بڑی تکلیف کے بعد ہی ہوتی ہے  اور انسان نے اپنی زندگی میں ایسا درد کبھی محسوس نہ کیا ہو گا  اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے درج ذیل فرمان میں اسی طرف اشارہ ہے : 
كُلُّ  نَفْسٍ   ذَآىٕقَةُ  الْمَوْتِؕ- (پ۴، اٰل عمرٰن: ۱۸۵)	ترجمۂ کنز الایمان: ہر جان کو موت چکھنی ہے ۔
	حضرت سیِّدُنا ربیع بن خیثم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : اس موت کا ذکر کثرت سے کرو کیونکہ تم نے اس جیسا ذائقہ پہلے نہیں چکھا ۔ 
مرنے والے پر مزید سختیاں: 
	موت کے آجانے کا احساس ہونے کے بعد تکلیف اور بڑھ جاتی ہے کیونکہ روح نکلنے کے بعد جسم ایک سڑی  ہوئی لاش ہو جاتا ہے جسے کیڑے مکوڑے  کھاتے  ہیں اور مٹی اسے بوسیدہ کر دیتی ہے حتّٰی کہ وہ دوبارہ مٹی بن جاتا ہے اور جب روح جسم سے جدا ہوتی ہے تو اسے یہ معلوم نہیں ہوتا  کہ اس کا ٹھکانا کیا ہے جنت ہے یا دوزخ؟ پس  اگر وہ مرتے دم تک گناہوں پر اڑا ہوا تھا تو بسا اوقات مرنے والے کو یہ غالب گمان ہوتا ہے کہ اس کی روح جہنم میں جائے گی، لہذا اس کی حسرت اور تکلیف  مزید بڑھ جاتی ہے اور کبھی  اس تکلیف کے ساتھ ساتھ اس پر اس کا جہنمی ٹھکانا ظاہر کیا جاتا ہے اور وہ اسے دیکھ لیتا ہے یا اسے اس ٹھکانے کی  خبردی جاتی ہے تو موت کی تکلیف اور عظیم غم کے علاوہ بُرے  ٹھکانے کا علم بھی اسے تکلیف دیتا ہے اورکثیر اسلاف کی تفسیر کے مطابق درج ذیل فرمانِ باری تعالیٰ سے  یہی مراد ہے : 
وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ(۲۹) (پ۲۹، القیٰمة: ۲۹)	ترجمۂ کنز الایمان: اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی ۔