اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَاۚ-فَیُمْسِكُ الَّتِیْ قَضٰى عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَ یُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّىؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ(۴۲) (پ۲۴، الزمر: ۴۲)
ترجمۂ کنز الایمان: اللہ جانوں کو وفات دیتا ہے ان کی موت کے وقت اور جو نہ مریں اُنہیں ان کے سوتے میں پھر جس پر موت کا حکم فرمادیا اُسے روک رکھتا ہے اور دوسری ایک میعاد مقرر تک چھوڑ دیتا ہے بے شک اس میں ضرور نشانیاں ہیں سوچنے والوں کے لئے ۔
حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک بارجب سفر میں نماز فجر رہ گئی اور سب سوتے رہے تو حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے ارشاد فرمایا: اے لوگو! یہ روحیں بندوں کے جسموں میں عارضی ہیں، اللہپاک جب چاہتا ہے انہیں قبض فرمالیتا ہے اور جب چاہتاہے لوٹا دیتا ہے ۔ (1)
روح تمہارے پاس عارضی ہے :
اِستَعِدِّي لِلْمَوْتِ يَا نَفْسُ وَاسْعٰي لِلنَّجَاةِ فَالْحَازِمُ الْمُسْتَعِدُّ
قَدْ تَيَقَّنْتُ اَنَّه‘ لَيْسَ لِلْحَي خُلُوْدٌ وَ لَا مِنَ الْمَوْتِ بُدُّ
اِنَّمَا اَنْتَ مُسْتَعِيْرَةُ مَا سَوْ فَ تَرُدِّيْنَ وَ الْعَوَارِي تُرَدُّ
ترجمہ: (۱)…اے نفس! مرنے کے لیے تیار رہ اور نجات پانے کے لیے کوشش کر کہ دور اندیش تیار رہتاہے ۔ (۲)… مجھے یقین ہے کہ کسی بھی زندہ کے لئے یہاں ہمیشگی نہیں ہے اور نہ ہی موت سے کوئی چھٹکارا ہے ۔ (۳)…بے شک تیرے پاس یہ روح عارضی شے ہے جو عنقریب تجھے واپس کرنی ہے اور عارضی چیزواپس کرنی ہی پڑتی ہے ۔
کسی اور شاعرنے یہ کہاہے :
فَمَا اَهْلُ الْحَيَاةِ لَنَا بِاَهْلٍ وَ لَا دَارُ الفَنَاءِ لَنَا بِدَارِ
وَ مَا اَمْوَالُنَا وَ الْاَهْلُ فِيْهَا وَ لَا اَوْلَادُنَا اِلَّا عَوَارِي
وَ اَنْفُسُنَا اِلٰى اَجَلٍ قَرِيْبٍ سَيَاْخُذُهَا الْمُعِيْرُ مِنَ الْمُعَارِ
ترجمہ: (۱)…یہ ہمارے اہل وعیال ہمارے نہیں رہنے والے اور نہ ہی فنا کا گھر(یعنی دنیا)ہمارا گھررہنے والا ہے ۔ (۲)…دنیا میں
________________________________
1 - مسند بزار، مسند ابی حمزة انس بن مالک، ۱۴ / ۴۲، حدیث: ۷۴۷۴