Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
48 - 85
روح و جسم کا ملاپ اور جدائی: 
	اللہتعالیٰ نے حضرت سیِّدُنا آدم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو زمین کی مٹی سے پیدا فرمایا اور ان میں اپنی طرف کی خاص روح پھونکی، آپ کے جسم مبارک میں آپ کی روح اور آپ کی اولاد کے جسموں میں اُن کی روحین اس دنیا میں عارضی  ہیں ۔ اللہتعالیٰ نے حضرت سیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام اور ان کی اولادکے متعلق یہ فیصلہ فرمایا کہ ان کے جسموں سے ان کی روحوں کو ضرور نکالا جائے گا اور جسموں کو اپنے مادۂ تخلیق یعنی مٹی کی طرف واپس لوٹایا جائے گا اور اس نے یہ وعدہ  بھی فرمایا کہ جسموں کو زمین سے دوبارہ  نکالاجائے گا پھر دوبارہ ان میں ہمیشہ  کے لیے روحیں لوٹادی جائیں گی اورپھر آخرت میں دوبارہ روحیں نکالنے کا معاملہ نہیں ہو گا ۔ 
	اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : 
فِیْهَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْهَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُوْنَ۠(۲۵) (پ۸، الاعراف: ۲۵)	ترجمۂ کنز الایمان: فرمایا اسی میں جیو گے اور اسی میں مَرو گے اور اسی میں  اٹھائے جاؤ گے ۔
	ایک اورمقام پر فرمایا: 
مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى(۵۵) (پ۱۶، طٰهٰ: ۵۵)
ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے زمین ہی سے تمہیں بنایا اور اسی میں تمہیں پھر لے جائیں گے اور اسی سے تمہیں دوبارہ نکالیں گے ۔
	نیز یہ بھی فرماتا ہے : 
وَ اللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًاۙ(۱۷) ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا وَ یُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا(۱۸) (پ۲۹، نوح: ۱۷، ۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اللّٰہ نے تمہیں سبزے کی طرح زمین سے اگایا پھر تمہیں اسی میں لے جائے گا اور دوبارہ نکالے گا ۔
	زمین سے سبزہ اگاکر اور بارش کے ذریعے مردہ زمین کو زندگی  دے کرہمارے لیے اس دنیامیں یہ دلیل بیان کی گئی ہے کہ  اللہتعالیٰ مٹی سے اِسی طرح جسموں کو دوبارہ نکالے گا اور یوں ہی نکلنے کے بعدروحوں کو  دوبارہ  جسموں میں لوٹانے کی دلیل نیند کی حالت میں بندوں کی روح  نکالنے اور جاگنے پر واپس لوٹانے سے سمجھائی گئی ہے ۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :