Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
46 - 85
وَخَفْ مِنْ ہَوْلِ یَوْمٍ قَمْطَرِیْرٍ		مَخُوْفٍ شَرُّہٗ ضَنْک عَبُوْس
فَمَالَکَ غَیْرُ تَقْوٰی اللہِ زَادًا		وَفِعْلُکَ حِیْنَ تُقْبَرُ مِنْ اَنِیْسٍ
فَحَسِّنْہُ لِیُعْرَضَ مُسْتَقِیْمًا		فَفِی الْاِثْنَیْنِ یُعْرَضُ وَالْخَمِیْسِ
ترجمہ: (۱)… حوادثِ زمانہ موت کے چھلکتے جام ہیں جو عوام اور حکمرانوں میں گردش کرتے ہیں ۔ (۲)…اپنی خواہش کے پیچھے نہ جاؤ کہ ہر آدمی نے آخر گل سڑ جانا ہے اور مِٹ جانا ہے ۔ (۳)…نہایت سخت اور ڈراؤنے دن کی ہولناکی سے ڈرو!  جس کا شر بہت تنگ وتُرش ہے ۔ (۴)…خوفِ خُدا کے سوا کوئی توشہ تمہارے کام نہ آئے گا، قبر میں اعمال ہی تمہارے ساتھی ہوں گے ۔ (۵)… لہٰذا اعمال اچھے کرو تاکہ ٹھیک پیش کئے جائیں، یہ  پیر اور جمعرات کے دن پیش کئے جاتے ہیں ۔ 
تیسری نشست:    نبی کرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال شریف کا بیان
وصال اقدس کی خبر خود ارشاد فرمائی: 
	حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے منبر پر جلوہ افروز ہو کر ارشاد فرمایا: ایک بندے کو اللہ پاک نے اختیار دیا کہ وہ  اسے دنیا کی اتنی تازگی عطا کرے جتنی وہ چاہے یا وہ عطاکرے جو اس کے پاس ہے تو اس بندے نے وہ اختیار کیا جواللہ تعالی کے پاس   ہے ۔ یہ سن کرحضرت سیِّدُنا  ابوبکرصدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ رونے لگے اور عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ پر ہمارے ماں باپ  قربان ۔ راوی کا بیان  ہے کہ ہمیں اس پر تعجب ہوا، لوگ  کہنے لگے : ان بزرگ کو دیکھو، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تو کسی بندے کے متعلق خبر دے رہے ہیں اُسے  اللہ کریم  نے اختیار دیا کہ اسے اس کی مرضی کے مطابق دنیا کی شادابی دے یا وہ عطا فرمائے جو اللہ پاک  کے پاس ہے اوریہ اس پر فرما رہے ہیں کہ آپ پر ہمارے ماں باپ  قربان ؟ راوی  فرتے ہیں : جس بندے کو اختیار  دیا گیا وہ خود رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی تھے اورآپ کوحضرت سیِّدُنا  ابوبکرصدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہم سب  سے زیادہ جانتے تھے ۔ (1)
سیدناصدیق اکبر کی شان وعظمت: 
	حضور نبی کریم، رءوف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اپنی صحبت اور اپنے مال کے لحاظ سے



________________________________
1 -     بخاری، کتاب مناقب الانصار، باب ھجرة النبی واصحابہ الی المدینة، ۲ /  ۵۹۱، حدیث: ۳۹۰۴