قطع تعلقی کرنے والوں کے ۔ اللہ پاک فرماتا ہے : ان دونوں کو چھوڑ دویہاں تک کہ دونوں صلح کر لیں ۔ (1)
(3)………حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مرفوع روایت ہے کہ پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ پاک کا شریک نہیں ٹھہراتا سوائے اُن دو کے جن کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے بغض وکینہ ہو ۔ پس فرمایاجاتا ہے : ان دونوں کو مہلت دو حتی کہ یہ دونوں باہم صلح کر لیں ۔ (2)
(4)………حضرت سیِّدُنا ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مرفوعا روایت ہے کہ پیر اور جمعرات کے دن اعمال اٹھائے جاتے ہیں پس مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت ہو جاتی ہے اور دل میں دشمنی رکھنے والوں کوان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ (3)
(5)………حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: بنی آدم کے اعمال ہر جمعرات اور جمعہ کے شب پیش کیے جاتے ہیں پس قطع رحمی کرنے والے کا کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا ۔ (4)
تابعی بزرگ کی آہ وزاری:
ایک تابعی بزرگ جمعرات کے دن اپنی اہلیہ کے سامنے رویا کرتے اورزوجہ بھی روتیں اور وہ فرمایا کرتے : آج ہمارے اعمال اللہ پاک کی بارگاہ میں پیش کیے جائیں گے ، اے سجی ہوئی عورت کے سامنے اپنے عمل پر اترانے والے ! عیبوں کا جاننے والا دیکھ رہا ہے ۔ اے لمبی امیدوں کی وجہ سے ٹال مٹول کرنے والے شخص ! تو کب تک ٹال مٹول کرے گا؟زندگی بہت چھوٹی سی ہے ۔
صُرُوْفُ الْحَتْفِ مُتْرَعَۃُ الْکُؤُوْسِ تُدَارُ عَلَی الرّعَایَا والرُّؤُوْسِ
فَلَا تَتْبَعْ ہَوَاکَ فَکُلُّ شَخْصٍ یَصِیْرُ اِلٰی بِلًی وَاِلٰی دُرُوْسٍ
________________________________
1 - ابن ماجہ، کتاب الصیام، باب صیام یوم الاثنین والخمیس، ۲ / ۳۴۴، حدیث: ۱۷۴۰
2 - مسلم، کتاب البر والصلة، باب النھی عن الشحناء والتھاجر، ص۱۰۶۴، حدیث: ۶۵۴۴
3 - معجم کبیر، ۱۰ / ۱۰، حدیث: ۹۷۷۶، ترفع بدلہ تعرض
4 - مسند احمد، مسند ابی ھریرة، ۳ / ۵۳۲، حدیث: ۱۰۲۷۶