Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
44 - 85
فوائد ومنافع پورے ہو گئے اوراسی نعمت  کے طفیل اللہ تبارک وتعالیٰ کا دین مکمل ہوا جسے اس نے اپنے بندوں کے لئے پسند فرمایا اور اس دین کو قبول کرنا دنیا و آخرت میں لوگوں کی سعادت مندی کا سبب ہے ۔ اس گفتگو سے معلوم ہوا کہ ایسے  دن کا روزہ رکھنا بہت اچھا ہے جس میں اللہ پاک کے بندوں پر اس کی  نعمتیں نازل ہوتی ہیں اور اس کا تعلق نعمتیں نازل  ہونے کے اوقات میں ان نعمتوں کے مقابلے  پرشکر ادا کرنے کے ساتھ ہے ۔ اس کی ایک مثال عاشوراء کے دن کا روزہ ہے کیونکہ اللہ کریم نے اس  دن حضرت سیِّدُنا نوح عَلَیْہِ السَّلَام کو ڈوبنے سے بچایااور اسی میں حضرت سیِّدُناموسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام اور آپ کی قوم کو فرعون اور اس کے لشکر اور پانی میں غرق ہونے سے بچایا، پس حضرت سیِّدُنا نوح اور حضرت سیِّدُنا موسٰی عَلَیْہِمَا السَّلَامنے شکر خداوندی میں روزے رکھے لہذارسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھی اللہ پاک کے نبیوں کی متابعت میں روزے رکھے اور یہودیوں سے فرمایا ” نَحْنُ اَحَقُّ بِمُوْسٰی مِنْکُمْ یعنی ہم تمہارے مقابلے میں  حضرت موسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کے زیادہ حق دار ہیں ۔  “ (1) چنانچہ آپ نے اس دن کا روزہ رکھا اور اس دن کا روزے رکھنے کا حکم بھی دیا ۔ 
پیروجمعرات کے روزے  پر 5فرامین مصطفٰے : 
	مروی ہے کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھنا پسند فرماتے تھے ۔ (2)اس کے متعلق درج ذیل احادیث کریمہ ہیں : 
	(1)………حضرت سیِّدُنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پیرو جمعرات کے روزے کے متعلق بارگاہِ رسالت میں عرض کی تو حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اِن دو  دنوں میں ربُ العٰلمینکی بارگاہ میں اعمال پیش ہوتے ہیں ، مجھے پسند ہے کہ جب میرا عمل پیش کیا جائے تو میں روزے سے ہوں ۔ (3)
	(2)………حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اس بارے میں سوال ہوا تو ارشاد فرمایا: ان دنوں میں ہر مسلمان کو بخش دیا جاتا ہے سوائے آپس میں



________________________________
1 -     مسلم، کتاب الصیام، باب صوم عاشوراء، ص۴۴۱، حدیث: ۲۶۵۸
	بخاری، کتاب مناقب الانصار، باب اتیان الیھود النبی حین قدم المدینة، ۲ /  ۶۰۶، حدیث: ۳۹۴۳
2 -     مسند احمد، مسند السیدة عائشة، ۹ /  ۳۷۷، حدیث: ۲۴۶۳۸
3 -     نسائی، کتاب الصیام، باب صوم النبی صلی اللہ علیہ وسلم بابی ھو  و امی      الخ، ص۳۸۷، حدیث: ۲۳۵۵