Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
43 - 85
	جہاں تک اسراء (یعنی معراج کی شب بیتُ اللہشریف سے بیت المقدس تک کے سفر) کا تعلق ہے تو ایک قول کے مطابق وہ رجب میں ہوا اور کئی حضرات نے اس قول کو ضعیف کہا اورایک قول ربیع الاول کے بارے میں ہے اور یہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم حربی وغیرہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہم کا قول ہے ۔ 
	 جہاں تک آپ کے مدینہ منور جانے اور وصال شریف کا معاملہ ہے تو وہ دونوں ربیع الاول میں وقوع پزیر ہوئے اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے ، البتہ اس مہینے کے دن کی تعیین میں اختلاف ہے ۔ 
سب سے بڑی نعمت: 
	حضور نبی پاک ، صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پیر شریف کے روزوں کے متعلق  عرض کی گئی توارشاد فرمایا: یہ وہ دن ہے جس میں میری پیدائش ہوئی اور اسی دن مجھ پر نبوت (یعنی وحی)کا نزول ہوا ۔ (1)
	 اس فرمان  عالی میں ایسے دنوں میں روزوں کے مستحب ہونے کی طرف اشارہ ہے جن میں اللہپاک کی نعمتیں بندوں پر اترتی ہیں ۔ بے شک اس امت پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت حضرت سیِّدُنا محمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بندوں کے لیے ظاہر فرمانا اور آپ کواُن کی طرف بھیجنا ہے جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے : 
لَقَدْ  مَنَّ  اللّٰهُ  عَلَى  الْمُؤْمِنِیْنَ  اِذْ  بَعَثَ  فِیْهِمْ  رَسُوْلًا  مِّنْ  اَنْفُسِهِمْ  (پ۴، اٰل عمرٰن: ۱۶۴)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ۔
	کیونکہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو رسول بنا کر بھیجنا اس امت کے لیے آسمان، زمین، سورج، چاند، ہوا، رات اوردن کو  پیدا کرنے ، بارش برسانے اورسبزیاں اگانے  وغیرہ تمام نعمتوں سے بڑی نعمت ہے ، بے شک یہ  نعمت بنی نوع انسان کے ان افراد کو بھی شامل ہے جواللہتعالیٰ، اس کے رسولوںعَلَیْہِمُ السَّلَاماوربارگاہِ الٰہی میں حاضری سے انکار کربیٹھے  تو انہوں نے نعمت الٰہی کوناشکری سے بدل دیا ۔ 
شکرنعمت کیلئے روزہ: 
	بلا شبہ حضورتاجدار ختم نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تشریف آوری کی نعمت سے دنیا و آخرت کے 



________________________________
1 -     مسلم، کتاب الصیام، باب استحباب صیام ثلاثة ایام من کل شھر      الخ، ص۴۵۵، حدیث: ۲۷۴۷
	سنن الکبری للبیھقی، کتاب الصیام، باب من کرہ صوم الدھر      الخ، ۴ /  ۴۹۴، حدیث: ۸۴۷۶