Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
42 - 85
اور اس کے پتھر سمندر میں ڈالیں گے اور ایسا اس وقت ہو گا جب اللہپاک پاکیزہ ہوا بھیجے گا جو تمام مومنوں کی روحیں قبض کر لے گی، اس وقت روئے زمین پر کوئی مومن نہیں بچے گا (1)اور قرآن پاک سینوں اور مصاحف سے نکل جائے گا(2) چنانچہ زمین پر قرآن ہوگا نہ ایمان اور نہ ہی کوئی خیر باقی بچے گی ، اس کے بعد قیامت قائم ہو گی اور قیامت بُرے لوگوں پر ہی  آئے ہو گی ۔ (3)
بروز پیر پہلی وحی: 
	ماقبل حضورخاتم الانبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمان گزارکہ ” اسی دن مجھ پر نبوت (یعنی وحی)کا نزول ہوا “ (4)یعنی آپ کی نبوت کا اعلان پیر شریف کے دن ہوا ۔ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پیر کے دن پیدا ہوئے اور پیر کے دن ہی آپ کی نبوت کا ظہور ہوا، مکہ مکرمہ سے ہجرت کرتے ہوئے پیر کے دن نکلے ، پیر کے دن مدینہ منورہ میں داخل ہوئے ، پیر کے دن وصال ظاہری ہوا اور آپ نے حجرِ اَسْوَد کو پیر کے دن  ہی نصب فرمایا ۔  
	حضرت سیِّدُنا ابن اسحاق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ذکر کیا کہ وحی کا نزول جمعہ کے دن ہوا جبکہ حضرت سیِّدُنا ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی حدیثِ پاک اس قول کو رد کرتی ہے ۔ پھر  علمائے کرام کا اس میں بھی اختلاف ہے کہ  وحی کا آغازکون سے مہینے میں ہوا؟ ایک قول ہے کہ رمضان المبارک میں ہوا، ایک قول رجب کے بارے میں ہے جو صحیح نہیں ہے ، ایک قول ربیع الاول کے متعلق ہے اور ایک قول یہ ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نبوت کا ظہور آٹھ ربیع الاول  کو پیرشریف کے دن ہوا ۔ 



________________________________
1 -     التذکرة للقرطبی، باب العشر آیات التی تکون قبل الساعة      الخ، ص۶۰۳
	مسلم، کتاب الفتن واشراط الساعة، باب لاتقوم الساعة حتی تعبد دوس ذا الخلصة، ص۱۱۹۰، حدیث: ۷۲۹۹
2 -     معجم کبیر، ۹ /  ۱۴۱، حدیث: ۸۶۹۸
3 -     ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب ذھاب القران والعلم، ۴ /  ۳۸۴، حدیث: ۴۰۴۹
	مسند احمد، مسند عبداللہ بن مسعود، ۲ /  ۱۳۲، حدیث: ۴۱۴۴
4 -      سنن الکبری للبیھقی، کتاب الصیام، باب من کرہ صوم الدھر      الخ، ۴ /  ۴۹۴، حدیث: ۸۴۷۶