لئے تھا اور قرامطہ نے خانۂ کعبہ کو نہ منہدم کیا، نہ اسے نقصان پہنچایا اور نہ ہی لوگوں کو اس کے حج اور اس کی زیارت سے روکا جیسا کہ اصحاب فیل (یعنی ہاتھی والوں) کا ارادہ تھا کہ اگر وہ غلبہ پالیں گے تو خانہ کعبہ کو منہدم کریں گے اور لوگوں کو اس کے حج سے روک دیں گے ۔ قرامطہ نے حجر اسود اور خانہ کعبہ کے دروازے کو اکھاڑا اور حاجیوں کوشہید کیا اور ان کے مال و اسباب لوٹے البتہ وہ لوگوں کو کلی طور پر حج سے نہ روک سکے اور نہ ہی مکمل طور پر کعبے کو منہدم کرپائے ۔ پھر اللہ پاک نے انہیں ذلیل و رسوا کیا ، ان کا پردہ چاک کیا اور ان کے راز فاش کر دیئے ۔ جبکہ عظمت والا خانہ کعبہ تعظیم، زیارت، حج و عمرہ اور اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کے لیے اپنے حال پر باقی وقائم رہا ۔ اللہ پاک کا شکر اور اُس کا کرم کہ ان چیزوں میں کوئی کمی نہیں آئی اور قرامطہ کا معاملہ زیادہ سے زیادہ یہ رہا کہ انہوں نے عراق سے حج کے لئے آنے والوں کو ڈرایا اور وہ چند سالوں تک بیتُ اللہسے رُکے رہے پھر دوبارہ خانہ کعبہ آنے لگے ۔ اللہ پاک جس آزمائش کے ساتھ چاہتا ہے ہمیشہ اپنے مومن بندوں کو آزماتا ہے لیکن اس کا دین قائم اور محفوظ ہے اور امتِ محمدیہ کا ایک گروہ ہمیشہ اس دین پر قائم رہے گا ، انہیں چھوڑنے والا انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکے گا یہاں تک کہ اللہ کا امر ( یعنی قیامت) آجائے اور وہ ایسے ہی رہیں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِــٴُـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ(۸) هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۠(۹) (پ۲۸، الصف: ۸، ۹)
ترجمۂ کنز الایمان: چاہتے ہیں کہ اللہکا نور اپنے مونہوں سے بجھادیں اور اللہکو اپنا نور پورا کرناپڑے بُرا مانیں کافروہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچّے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے پڑے بُرا مانیں مشرک ۔
قربِ قیامت اور انہدامِ کعبہ:
حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ غیبی خبر دی تھی کہ اس گھر( یعنی بیتُ اللہ) کا حج و عمرہ یاجوج وماجوج کے نکلنے کے بعد بھی کیا جاتا رہے گا(1)اور خانہ کعبہ اسی طرح رہے گا حتی کہ حبشی اسے تباہ کریں گے (2)
________________________________
1 - بخاری، کتاب الحج، باب قول اللہ تعالی جعل اللہ الکعبة البیت، ۱ / ۵۳۶، حدیث: ۱۵۹۳
2 - بخاری، کتاب الحج، باب ھدم الکعبة، ۱ / ۵۳۷، حدیث: ۱۵۹۶