فتح مکہ کے روزعظمت کعبہ:
بے شک رسول پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور آپ کی امت بیتُ اللہکی تعظیم و تکریم اور احترام چاہتی تھی، اسی لیے حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فتح مکہ والے دن اس شخص کا انکار فرمایا جس نے کہاتھا: ”آج کے دن کعبہ حلال کر دیا جائے گا (یعنی حرمت باقی نہیں رہے گی) ۔ “ آپ نے اس کے جواب میں فرمایا: ”آج کے دن کعبہ باعظمت ہوجائے گا ۔ “ (1)دور جاہلیت والوں نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم اور حضرت سیِّدُنا اسماعیل عَلَیْہِمَا السَّلَام کے دین میں شرک جاری کر کے اسے بدل ڈالا تھا اور بعض مناسک حج کو تبدیل کر دیا تھا چنانچہ اللہ پاک نے اپنے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور اُن کی امت کو مکہ مکرمہ پر اقتدار عطافرمایا تو انہوں نے کعبہ معظمہ کو ان تمام بُرائیوں سے پاک کر دیا اور ان کے دین کو حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے دین حنیف کی طرف پھیر دیا ۔ حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے انہیں لوگوں کے لئے اپنے بیٹے حضرت سیِّدُنا اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام کے ساتھ تعمیر کعبہ کے موقع پر دعا مانگی تھی کہ”اللہ پاک ان میں وہ رسول بھیج دے جو ان پر اللہ کی آیات تلاوت کرے ، انہیں پاک کر کے کتاب و حکمت سکھائے ۔ “ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان اولادِ اسماعیل سے حضرت سیِّدُنا محمدمصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو انہی اوصاف کے ساتھ بھیج دیا اورآپ نے بیتُ اللہاور اس کے اردگرد کو شرک سے پاک فرمایااور ان لوگوں کو باطل دین سے حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے دینِ حنیف اور اس توحید کی طرف پھیر دیا جس کے لئے بیتُ اللہکی تعمیر کی گئی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا:
وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْــٴًـا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآىٕفِیْنَ وَ الْقَآىٕمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ(۲۶) (پ۱۷، الحج: ۲۶)
ترجمۂ کنز الایمان: اور جب کہ ہم نے ابراہیم کو اس گھر کا ٹھکانا ٹھیک بتادیا اور حکم دیا کہ میرا کوئی شریک نہ کر اور میرا گھر ستھرا رکھ طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع سجدے والوں کے لئے ۔
بیتُ اللہ پر قرامطہ کا قبضہ:
جہاں تک بعد میں بیتُ اللہپر قَرامطہ کے قبضے کا تعلق ہے تو وہ لوگوں کو ان کے گناہوں کے سبب سزا کے
________________________________
1 - بخاری، کتاب المغازی، باب این رکز النبی الرایة یوم الفتح، ۳ / ۱۰۲، حدیث: ۴۲۸۰