Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
39 - 85
اچھی طرح علم تھا اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ واقعہ لوگوں کے درمیان مشہورومعروف  تھااور اس کا علم اہل عرب بالخصوص قریش اور اہل مکہ سے مخفی نہ تھا ۔ چونکہ یہ معاملہ ان کے درمیان مشہور و معروف تھا اس لئے انہوں نے اس کے بارے میں جوشیلے اشعار بھی کہے ۔ 
	حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ میں نے ہاتھی چلانے والے اور اسے سدھانے والے کواندھا دیکھا وہ مکے میں لوگوں سے کھانا مانگتے پھرتے تھے ۔ 
واقعہ فیل اور فتح مکہ حَقّانیت کی دلیل: 
	ہاتھی والے واقعہ میں وہ باتیں ہیں جو مَکۂ مکرمہ کی تعظیم واحترام اور اس میں واقع بیتُ اللہ کے احترام پر دلالت کرتی ہیں اور اس کے بعد حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دنیا میں تشریف لانا آپ کی نبوت و رسالت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ آپ کی بعثت اس گھر کی تعظیم، اس کے حج اور اس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرنے کے لئے ہوئی ۔ یہ شہر حضور رحمت عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وطن ولادت تھا، جب آپ نے اپنی قوم کو اللہتعالیٰ کی طرف بلایا تو انہوں نے آپ کو اذیتیں پہنچا کر اس سے نکلنے پر مجبور کر دیاپھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان پر کامیابی دلائی ، آپ کوقوت وطاقت  کے ساتھ مَکۂ مکرمہ میں داخل فرما دیا اورآپ اس شہر والوں کے مالک بن  گئے پھر ان پر احسان فرماتے ہوئے انہیں آزاد کر دیا اور انہیں معاف  فرمادیا ۔ 
	حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس شہرِمکہ  پر اقتدار و ملکیت حاصل ہونااور آپ کے بعد آپ کی امت کو اس کا مالک بنایا جانا آپ کے نبیٔ برحق ہونے کی دلیل ہے کیونکہ جو  مَکۂ مکرمہ کو نقصان پہنچانا اور تباہ کرنا چاہتا تھا اللہ پاک نے اسے روکا  پھر اس پر اپنے رسول اور اس کی امت کو غلبہ و اقتدار دے دیا جیساکہ رسول پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ پاک نے مکہ مکرمہ سے ہاتھی کو روکا اور اس پر اپنے رسول اور مومنوں کو اقتدار دے دیا ۔ (1)



________________________________
1 -     بخاری، کتاب اللقطة، باب کیف تعرف لقطة اھل مکة، ۲ /  ۱۲۲، حدیث: ۲۴۳۴