اکثریت کی رائے یہ ہے کہ آپ واقعہ فیل کے سال پیدا ہوئے ۔ یہ قول حضرت سیِّدُنا قیس بن مخرمہ اور حضرت سیِّدُنا قباث بن اشیم اور حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا ہے اور حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے ایک روایت یہ ہے کہ ” آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم واقعہ فیل والے دن ہی پیدا ہوئے ۔ “ اس روایت کے بارے میں کہا گیا کہ یہاں راوی کو وہم ہوگیاجبکہ آپ سے درست قول یہ منقول ہے کہ ” آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم واقعہ فیل والے سال پیدا ہوئے ۔ “ بعض علمائے کرام نے اسی بات پرسب کا اتفاق نقل کیا اور فرمایا: اس کے مخالف ہر قول وہم ہے ۔
مشہورقول یہ ہے کہ حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم واقعہ فیل کے 50 دن بعد پیدا ہوئے ۔ ایک قول کے مطابق 55 دن بعد، ایک قول کے مطابق ایک مہینے بعد، ایک قول 40 دن بعد پیدا ہونے کا ہے ، ایک قول 10 سال بعد کا ہے ، ایک قول 23 سال بعد کا ہے ، ایک قول 40 سال بعد کا ہے جبکہ ایک قول واقعۂ فیل سے 15 سال قبل کا بھی ہے ۔ علمائے کرام کی اکثریت کے نزدیک یہ تمام اقوال وہم پر مشتمل ہیں اور ان میں سے بعض اقوال کی نسبت ان کی قائلین کی طرف درست نہیں ہے ۔
حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن منذر حزامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ہمارے علما میں سے کسی نے اس بات میں شک نہیں کیا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ولادت واقعہ فیل کے سال ہوئی ۔ حضرت سیِّدُنا خلیفہ بن خیاط رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اسی بات پر اجماع ہے ۔ واقعہ فیل آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نبوت کا پیش خیمہ اورآپ کے ظہورو بعثت کے لئے مقدمہ تھا، اللہ پاک نے اس واقعے کو اپنی کتاب میں بیان کرتے ہوئے فرمایا:
اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ(۱) اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ(۲) وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ(۳) تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍﭪ(۴) فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠(۵) (پ۳۰، الفیل: ۱ تا ۵)
ترجمۂ کنز الایمان: اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا تمہارے رب نے ان ہاتھی والوں کا کیا حال کیا کیا ان کا داؤں تباہی میں نہ ڈالا اور ان پر پرندوں کی ٹکڑیاں(فوجیں) بھیجیں کہ انھیں کنکر کے پتھروں سے مارتے تو انھیں کر ڈالا جیسے کھائی کھیتی کی پتی (بھوسہ) ۔
” اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ(۱) “ آیت طیبہ سے پتا چلتا ہے کہ مخاطب کو اس واقعہ کا