Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
37 - 85
 آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ختنہ شدہ اور ناف بریدہ پیدا ہوئے ۔  “ لیکن حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس حدیث پاک کی صحت بیان کرنے کے درپے نہ ہوئے ۔ 
ولادت  کا مہینہ اوردن  کونسا تھا؟
	حضور نبی رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ولادت  باسعادت کے مہینے کے متعلق بھی اختلاف ہے ۔ ایک قول ہے کہ آپ کی ولادت ماہِ رمضان میں ہوئی، یہ قول حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے  جس کی سندصحیح نہیں ۔ ایک قول ہے کہ آپ کی ولادت ماہِ رجب میں ہوئی اور یہ بھی درست نہیں ہے اور ایک قول کے  مطابق آپ کی ولادت ماہِ ربیع الاول میں ہوئی اور یہی لوگوں کے درمیان مشہور ہے حتّٰی کہ حضرت سیِّدُنا عبد الرحمٰن بن جوزی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اور دیگر محدثین نے اس پر اتفاق واجماع نقل کیا ہے لیکن یہ جمہور علمائے کرام کا قول ہے ۔ 
	پھر اس میں اختلاف ہے کہ ولادت  شریف مہینے کے کون سے دن ہوئی؟ بعض کا قول ہے کہ اس کی تعیین نہیں ہے ، البتہ  آپ کی ولادت ربیع الاول کے مہینے میں پیر کے دن ہوئی لیکن اس دن کا عدد معین نہیں کہ اس مہینے  کا کونسا پیر تھا ۔ جبکہ جمہور علمائے کرام کا موقف یہ ہے کہ اس ماہ کا دن معین ہے پھر ان میں بھی اختلاف ہے ، ایک قول یہ ہے کہ جس دن آپ کی ولادت ہوئی تو دو راتیں گزری تھیں، ایک قول 8راتوں کا ہے ، ایک قول 10، ایک قول 12اور ایک قول 17 اورایک قول 18 راتوں کا ہے جبکہ  ایک قول اس ماہ کی 8 راتوں کے باقی ہونے کا بھی ہے ۔ ان دونوں اقوال کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ دونوں قول چاہے جن کے بھی ہیں بالکل بھی درست نہیں ہیں، مشہور قول جمہور کا ہے  اور وہ یہ ہے کہ حضور تاجدار ختم نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ولادت مبارکہ پیرشریف کے دن ربیع الاول کی بارہ تاریخ  کو ہوئی ۔ حضرت سیِّدُنا ابن اسحاق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اور دیگرعلمائے امت  کا بھی یہی قول ہے ۔ 
ولادتِ اَقدس کے سال کی تحقیق: 
	 جہاں تک حضور نبی دوجہان، رحمت عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ولادت کے سال کا تعلق ہے تو