شانوں کے درمیان سے اٹھا لی گئی تھی لیکن اس حدیث کی سند ضعیف ہے ۔
انوکھی نشانیاں:
حضور نبی پاک ، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ولادت کے متعلق کچھ انوکھی وحیرت انگیز نشانیاں بھی بیان کی گئی ہیں ۔ چنانچہ،
(1)………مروی ہے کہ حضرت سیِّدَتُنا آمنہ بنت وہب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ جب میں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو جنم دیا تو وہ دنیا میں عام بچوں کی طرح پیدا نہ ہوئے بلکہ آپ نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا ہوا تھا اور سر آسمان کی طرف اُٹھائے ہوئے تھے ۔
(2)………یہ بھی مروی ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پیدائش کے وقت زمین پر تشریف لاتے ہی مٹی اپنی مٹھی میں لے لی تھی ۔ اس پر بعض قیافہ شناسوں نے کہا کہ اگر شگون صحیح ہوا تو ضرور یہ بچہ اہل زمین پر غالب آجائے گا ۔
(3)……… یہ بھی مروی ہے کہ آپ کو ایک طشت کے سائے میں رکھا گیا جب اس طشت کو ہٹایا جاتا تو لوگ آپ کو آسمان پر نظریں جمائے ہوئے ہی پاتے تھے ۔
پیدائشی ختنہ شدہ ناف بریدہ:
اس بارے میں روایات مختلف ہیں کہ آپ ختنہ شدہ پیدا ہوئے تھے یا نہیں ؟ایک روایت یہ ہے کہ حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ختنہ شدہ اور ناف بریدہ پیدا ہوئے ۔ حضرت سیِّدُنا امام حاکم ابو عبداللہ نیشاپوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ اس کے متعلق روایات تواتر کے ساتھ مروی ہیں جبکہ دوسری روایت میں ہے کہ آپ کے داداجان نے آپ کا ختنہ کیا ۔ حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس معاملے میں توقف فرمایا ہے ۔ حضرت سیِّدُنا مروزی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا گیا: کیا حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ختنہ شدہ پیدا ہوئے ؟ انہوں نے فرمایا: ”اَللہُ اَعْلَمیعنی اللہ پاک ہی بہتر جانتا ہے ۔ “ پھرآپ نے فرمایا: ”مجھے تو حقیقت کا پتا نہیں ، البتہ ہمارے ساتھیوں میں سے حضرت ابو بکر عبد العزیز بن جعفر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بقول ایک روایت کے مطابق