مہرِ نبوت دیکھتے ہی بے ہوش:
حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ مکہ میں ایک یہودی تجارت کیا کرتا تھا، جب رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیدائش والی رات آئی تو وہ بولا: اے گروہِ قریش! کیا آج رات تمہارے ہاں کو ئی بچہ پیدا ہوا ہے ۔ وہ بولے : ہمیں نہیں معلوم ۔ تو اس نے کہا: آج رات اس آخری امت کا نبی پیدا ہوا ہے ، اس کے دونوں کاندھوں کے درمیان ایک علامت ہے جس میں گھوڑے کی گردن کی طرح گھنے بال ہیں چنانچہ وہ لوگ اس یہودی کو لے کر حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی والدہ ماجدہ کے پاس آئے اور بولے : اپنے بیٹے کو ہمارے سامنے لاؤ ۔ والدہ ماجدہ نے آپ کو انہیں دیا اور انہوں نے آپ کی پیٹھ سے کپڑا ہٹایا، اس یہودی نے جوں ہی اس اُبھرے ہوئے گوشت(مہر نبوت) کو دیکھا تو بے ہوش ہو کر گر پڑا، جب وہ ہوش میں آیا تو لوگوں نے اس سے کہا: تیرا ناس ہو! تجھے کیا ہوا؟ اس نے کہا: بخدا! بنی اسرائیل سے نبوت چلی گئی ۔ (1)
یہ حدیث پاک اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حضور نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مقدس شانوں کے درمیان مہر نبوت کے ساتھ پیدا ہوئے تھے اوریہ آپ کی نبوت کی ان علامات میں سے ہے جس سے اہل کتاب آپ کو پہچانتے تھے اور اس کے متعلق پوچھا کرتے تھے اور اسے دیکھنے کا مطالبہ بھی کیا کرتے تھے ۔
مروی ہے کہ ہِرَقل بادشاہ نے تبوک کے مقام پر حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس اپنا قاصد بھیجا تھا تا کہ وہ آپ کی مہر نبوت کو دیکھ کر اسے خبر دے ۔
اور حضرت سیِّدُنا ابو ذر غفاری و حضرت سیِّدُنا عتبہ بن عبد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہما حضور نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے روایت کرتے ہیں کہ”جن دو فرشتوں نے آپ کے مبارک سینے کو چاک کر کے اس میں حکمت بھری تھی انہی دونوں نے آپ کو ختم نبوت کی مہر لگائی تھی ۔ “ (2)یہ حدیث حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی حدیث پاک کے برخلاف ہے ۔
ایک روایت یہ ہے کہ یہ مہر حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال شریف کے بعد آپ کے
________________________________
1 - مستدرک، کتاب تواریخ المتقدمین من الانبیاء والمرسلین، باب رؤیة الیھودی شامة الخ، ۳ / ۴۹۷، حدیث: ۴۲۳۳
2 - مسند احمد، مسند الشامیین، ۶ / ۲۰۲، حدیث: ۱۷۶۶۵