Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
34 - 85
اکثریت کی موافقت کرنا بھی منقول ہے اور یہ بات تمام علمائے کرام کے فرمان کے موافق ہے کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپیرشریف کے دن پیدا ہوئے اور حضرت سیِّدُنا ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی  حدیث پاک اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آپ کی ولادت پیرشریف کو دن کے وقت ہوئی  جبکہ ایک روایت یہ ہے کہ آپ پیر کی طلوع فجر (صبح صادق)کے وقت پیدا ہوئے ۔ 
نبی آخر الزماں کی بشارت اور نشانیاں: 
	ضعیف سند کے ساتھ مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا: مرظہران میں ایک عیص نامی شامی راہب رہتا تھا، وہ کہا کرتا تھا: اے اہل مکہ!  عنقریب تم میں ایک ایسا بچہ پیدا ہو گا کہ پورا عرب اور عجم اس کی پیروی کرے گا اور وہ عجم کا بادشاہ ہو جائے گا، یہ اسی کا زمانہ ہے ۔ چنانچہ مکہ مکرمہ میں جو بھی بچہ پیدا ہوتا یہ اس کے متعلق پوچھا کرتا ۔ پھر جب رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ولادت  کی صبح ہوئی تو حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عبد المطلب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا عیص راہب کے پاس آئے اور اس کی عبادت گاہ کے پاس جا کر اسے آواز دی: اے عیص!  اس نے پکار کر کہا: کون ہے ؟ آپ نے کہا: عبداللہ ۔ اس نے جھانک کر آپ کو دیکھا تو کہا: تم اس بچے کے باپ بن گئے ہو جس کی پیدائش کے بارے میں تمہیں بتا  چکا ہوں کہ وہ پیر کے دن پیدا ہو گا اور پیر کے دن مبعوث ہو  گا اور پیر کے دن انتقال کرے گا وہ پیدا ہو چکا ہے ۔ آپ نے فرمایا: میرے ہاں صبح ہی بیٹا پیدا ہوا ہے ۔ اس نے پوچھا: تم نے اس کا نام کیا رکھا ہے ؟ آپ نے کہا: محمد ۔ اس نے کہا: خدا کی قسم!  میری دلی تمنا تھی  کہ وہ بچہ تمہارے گھرانے میں ہو، ہم اسے تین نشانیوں سے پہچانتے ہیں اور وہ ان نشانیوں کے ساتھ ہی آیا ہے ، وہ نشانیاں یہ ہیں: (۱)…گزشتہ رات اُن کا تارہ طلوع کرچکا (۲)…وہ آج کے دن پیدا ہوا اور (۳)…اس کا نام محمد ہے ۔ تم اس کے پاس جاؤ کیونکہ یہی وہ بچہ ہے میں  جس کے بارے میں تم سے بیان کیا کرتا تھا ۔ 
	ایک روایت آپ کے رات کے وقت پیدا ہونے پر دلالت کرتی ہے اور سابقہ مجلس میں بہت سے آثار ایسے بیان ہوئے ہیں جن کے ذریعے اس پر استدلال کیا جا سکتا ہے ۔