Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
33 - 85
(۳)ہمیں دنیا کے اس گھر میں ضرور موت سے دوچار ہونا ہے  ، یہاں  موت نے کسی عقلمندکے لیے کوئی خوشی نہیں چھوڑی ۔ 
(۴)اے اولاد آدم!  اپنے دین  وایمان کی حفاظت کر و، بہت ضروری ہے کہ دین کو پس پشت نہ ڈالا جائے ۔ 
(۵)اللہ پاک کی حمد بیان کرو جس نے تمہیں ایسے نبی سے عزت بخشی جنہوں نے تمہارے درمیان رہ کر نصیحت فرمائی ۔ 
 (۶)وہ عظیم نبی  جن کے وسیلے سے اللہ کریم نے ہر  بھلائی کا دروازہ کھول دیااورتمہیں حاصل ہونے والی ہر خیر سے نوازا ۔ 
(۷)وہ ایسے رسول ہیں  جن کے تقوٰی و نیکی  کے ساتھ سارے لوگوں  کاموازنہ کیا جائے تووہ ہلکے پڑ جائیں  اوریہ غالب آجائیں ۔ 
(۸)الغرض بلندرتبے کے سب سے بڑے حق داررسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں اور آپ ہی تعریف کے سب سے زیادہ مستحق ہیں ۔ 
دوسری نشست: ولادتِ مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند: 
	حضرت سیِّدُنا ابو قتادہ انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں پیرشریف کے روزے کے بارے میں  سوال ہواتو ارشاد فرمایا: اسی دن میں پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر نبوت (یعنی وحی)کا نزول ہوا ۔ (1)
	حضور نبی  پاک، صاحب لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ولادت پیر کے دن ہونے پر گویا علمائے کرام کا اجماع  واتفاق ہے ، حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اور دیگراصحاب کی یہی رائے ہے اور بعض سے یہ قول بھی منقول ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ولادت بروزجمعۃ المبارک ہوئی مگر یہ قول ساقط و مردود ہے ( یعنی یہ قول معتبر نہیں  بلکہ اہل علم نے اِسے ٹھکرادیا ہے ) ۔ 
	مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناامام  ابو جعفرمحمد باقر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس معا ملے میں توقف کرتے ہوئے فرمایا: ”اسے اللہتعالیٰ ہی جانتا ہے ۔  “  یہ اس لئے فرمایا کیونکہ  آپ کو اس کے متعلق کوئی  قابل اعتماد روایت نہیں ملی تھی لہذا آپ نے تقوٰی کے سبب اس معاملے میں توقف فرمایا ۔ جہاں تک اکثریت کا تعلق ہے تو انہیں اس معاملے میں اپنے قول کے مطابق روایت مل گئی تھی ، پھر یہ کہ حضرت سیِّدُنا امام باقر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا 



________________________________
1 -     مسلم، کتاب الصیام، باب استحباب صیام ثلاثة ایام من کل شھر      الخ، ص۴۵۵، حدیث: ۲۷۴۷