سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جیسا کہاں سے ہوگا ؟بالکل نہیں ہے کیونکہ سورج کی روشنی پیمائش کے آلے کی طرح نہیں ہوتی ۔ کیا ان کے علما میں حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابو حنیفہ ، حضرت سیِّدُنا امام مالک اور حضرت سیِّدُنا امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمجیسے پختہ مسلکوں والے ہیں؟ تم سے ان جیسوں کی تعریف ممکن نہیں کیونکہ وہ اِس سے بہت بڑھ کر ہیں ، واہ کیسی اچھی اس امت کی عمارت اور کیسی خوب اس کی بنیاد ہے ! ! ! کیا دیگر امتوں میں کوئی حضرت سیِّدُنا حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے اعلیٰ اور شان والا ہے ؟ یا حضرت سیِّدُنا محمد بن سیرین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جیسا کوئی ہے جن کا تقوٰی مقبولِ عام ہے یا حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہجیسا کوئی ہے جن کا لباس خوف اور علم ہے یا حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی مثل کوئی ہے جنہوں نے اپنی جان اللہ پاک کے لئے وقف کردی اور قربان ہوگئے ، خدا کی قسم! دیگر امتوں میں کوئی بھی ان جیسا نہیں ۔ اے بندے ! کوئی حرج نہیں ، تو بلند آواز سے یہ آیتِ طیبہ پڑھ:
كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (پ۴، اٰل عمرٰن: ۱۱۰) ترجمۂ کنز الایمان: تم بہتر ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں ۔
لَاحَ شَيْبُ الرَّاْسِ مِنِّي فَنَصَحْ بَعْدَ لَهْوٍ وَشَبَابٍ وَ مَرَح
اِخْوَتِي تُوْبُوْا اِلَى اللهِ بِنَا قَدْ لَهَوْنَا وَ جَهِلْنَا مَا صَلَح
نَحْنُ فِيْ دَارٍ نَرَى الْمَوْتَ بِهَا لَمْ يَدَعْ فِيْهَا لِذِي اللُّبِّ فَرَح
يَا بَنِي اٰدَمَ صُوْنُوْا دِيْنَكُم يَنْبَغِيْ لِلدِّينِ اَلَّا يَطْرَح
وَ اَحْمَدُوا اللهَ الَّذِيْ اَكْرَمَكُم بِنَبِيٍّ قَامَ فِيْكُمْ فَنَصَح
بِنَبیٍٍّ فَتَحَ اللهُ بِهٖ كُلَّ خَيْرٍ نِلْتُمُوْهُ وَ مَنَح
مُرْسَلٌ لَوْ يُوْزَنُ النَّاسُ بِهٖ فِيْ التُّقَى وَ الْبِرِّ خَفُّوْا وَ رَجَح
فَرَسُوْلُ اللهِ اَوْلٰى بِالْعُلٰى وَ رَسُوْلُ اللهِ اَوْلٰى بِالْمَدْح
ترجمہ: (۱)تفریح، جوانی اور خوشی سے بھرپور زندگی گزارنے کے بعد میرے سر پر بڑھاپا پوری طرح چھا گیا ۔
(۲)بھائیو! ہمارے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں توبہ کرو، ہم لذتوں میں پڑے تھے اور اصلاح سے بے خبر تھے ۔