Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
30 - 85
 پکڑا جائے گا تو میں کہوں گا: اے میرے رب!  یہ میرے ساتھی ہیں ۔ تو کہا جائے گا: آپ خود سے نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا نئے طریقے نکال لئے تھے ۔ تو میں کہوں گا: دورکردو، دورکردو اُسے جس نے میرے بعد دین کو بدل ڈالا ۔ (1)
سب سے بہتر زمانہ: 
	اس امت کے بہترین لوگ پہلے زمانے والے ہیں جیسا کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”خَیْرُ الْقُرُوْنِ قَرَنِی، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلَوْنَھُمْ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلَوْنَھُمیعنی سب سے بہتر میرا زمانہ ہے ، پھر وہ جو اس سے ملا ہوا ہے ، پھر وہ جو اس سے ملا ہوا ہے ۔  “ (2) نیز ارشاد فرمایا: میں اولادِ آدم کے یکے بعد دیگرے بہترین طبقات میں سے مبعوث ہوا حتّٰی کہ میں اس گروہ سے ظاہر ہوا  جس  سے  میں تھا ۔ (3)
قرآن پاک اور صحابَۂ کرام کی شان: 
	قرآن پاک میں صحابَۂ کرام کی  بڑی شان بیان ہوئی ہے ۔ رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : 
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِؕ-وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُم (پ۲۶، الفتح: ۲۹)
ترجمۂ کنز الایمان: محمّد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل ۔
	ایک اور مقام پرفرمایا: 
لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ (پ۲۶، الفتح: ۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان: بیشکاللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے ۔
	حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی صحابیت کوخصوصیت کے ساتھ بیان  فرمایا: 
اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَاۚ- (پ۱۰، التوبة: ۴۰)       ترجمۂ کنز الایمان: جب اپنے یار سے فرماتے تھے غم نہ کھا بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔



________________________________
1 -     مسلم، کتاب الفضائل، باب اثبات حوض نبینا صلی الله علیہ وسلم وصفاتہ، ص۹۶۸، حدیث: ۵۹۷۸، بتغیر قلیل
	مسلم، کتاب الفضائل، باب اثبات حوض نبینا صلی الله علیہ وسلم وصفاتہ، ص۹۶۷، حدیث: ۵۹۶۹
2 -     بخاری، کتاب الشھادات، باب لا یشھد علی شھادة جور اذا اشھد، ۲ /  ۱۹۳، حدیث: ۲۶۵۱
3 -     بخاری، کتاب المناقب، باب صفة النبی، ۲ /  ۴۸۸، حدیث: ۳۵۵۷