پکڑا جائے گا تو میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میرے ساتھی ہیں ۔ تو کہا جائے گا: آپ خود سے نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا نئے طریقے نکال لئے تھے ۔ تو میں کہوں گا: دورکردو، دورکردو اُسے جس نے میرے بعد دین کو بدل ڈالا ۔ (1)
سب سے بہتر زمانہ:
اس امت کے بہترین لوگ پہلے زمانے والے ہیں جیسا کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”خَیْرُ الْقُرُوْنِ قَرَنِی، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلَوْنَھُمْ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلَوْنَھُمیعنی سب سے بہتر میرا زمانہ ہے ، پھر وہ جو اس سے ملا ہوا ہے ، پھر وہ جو اس سے ملا ہوا ہے ۔ “ (2) نیز ارشاد فرمایا: میں اولادِ آدم کے یکے بعد دیگرے بہترین طبقات میں سے مبعوث ہوا حتّٰی کہ میں اس گروہ سے ظاہر ہوا جس سے میں تھا ۔ (3)
قرآن پاک اور صحابَۂ کرام کی شان:
قرآن پاک میں صحابَۂ کرام کی بڑی شان بیان ہوئی ہے ۔ رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِؕ-وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُم (پ۲۶، الفتح: ۲۹)
ترجمۂ کنز الایمان: محمّد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل ۔
ایک اور مقام پرفرمایا:
لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ (پ۲۶، الفتح: ۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان: بیشکاللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے ۔
حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی صحابیت کوخصوصیت کے ساتھ بیان فرمایا:
اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَاۚ- (پ۱۰، التوبة: ۴۰) ترجمۂ کنز الایمان: جب اپنے یار سے فرماتے تھے غم نہ کھا بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔
________________________________
1 - مسلم، کتاب الفضائل، باب اثبات حوض نبینا صلی الله علیہ وسلم وصفاتہ، ص۹۶۸، حدیث: ۵۹۷۸، بتغیر قلیل
مسلم، کتاب الفضائل، باب اثبات حوض نبینا صلی الله علیہ وسلم وصفاتہ، ص۹۶۷، حدیث: ۵۹۶۹
2 - بخاری، کتاب الشھادات، باب لا یشھد علی شھادة جور اذا اشھد، ۲ / ۱۹۳، حدیث: ۲۶۵۱
3 - بخاری، کتاب المناقب، باب صفة النبی، ۲ / ۴۸۸، حدیث: ۳۵۵۷