دوچہروں والے کی مذمت:
سرکار دو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرماتے ہیں: ”اللہ پاک کے نزدیک لوگوں میں سب سے بدترین شخص وہ ہے جس کی بُرائی سے بچنے کے لئے لوگ اسے چھوڑ دیں ۔ “ (1)اورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ بھی فرمایا ہے : ”قیامت کے دن اللہپاک کے نزدیک لوگوں میں سب سے بد تر دوچہروں والاشخص ہو گا جو ایک گروہ کے پاس ایک چہرے سے جائے اور دوسرے کے پاس دوسرے چہرے سے (یعنی منافقت کرے ) ۔ “ (2)
حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین درجے والاشخص وہ ہے جس نے قرآن کریم کی تلاوت کی مگر جو کچھ اس میں ہے اس پردھیان نہ دیا ۔ “ (3)نیز ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن انتہائی بُرے مرتبے والا شخص وہ ہوگا جس نے دوسرے کی دنیا کی خاطر اپنی آخرت برباد کرلی ۔ “ (4)
اب تو حیاکرنی چاہیے :
عالَمِ برزخ میں اُمتیوں کے اعمال ان کے نبی پر پیش کیے جاتے ہیں تو بندے کوحیا کرنی چاہیے کہ اس کے نبی کی بارگاہ میں اس کا وہ عمل پیش ہو جس سے انہوں نے منع فرمایا ہے ۔
حَجۃ الوداع کے سال جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعرفات میں وقوف فرما رہے تھے اس وقت ارشاد فرمایا: میں حوضِ کو ثر پر تمہارا پیش رو (یعنی تم سے پہلے پہنچ کر تمہارے لئے انتظام کرنے والا)ہوں اور میں تمہاری کثرت کے سبب دیگر امتوں پر فخر کروں گا لہٰذا تم مجھے غمگین نہ کرنا ۔ (5)
آپ کا یہ فرمان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب رسول پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر امت کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو وہ اُن کے گناہوں سے حیا فرماتے ہیں ۔
حضورنبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرماتے ہیں: میری امت کے بائیں جانب کے کچھ مردوں کو
________________________________
1 - بخاری، کتاب الادب، باب المداراة مع الناس، ۴ / ۱۳۴، حدیث: ۶۱۳۱
2 - بخاری، کتاب الادب، باب ما قیل فی ذی الوجھین، ۴ / ۱۱۵، حدیث: ۶۰۵۸
3 - نسائی، کتاب الجھاد، باب فضل من عمل فی سبیل الله علی قدمہ، ص۵۰۴، حدیث: ۳۱۰۳، دون قولہ منزلة عند الله
4 - ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب اذا التقی المسلمان بسیفھما، ۴ / ۳۳۹، حدیث: ۳۹۶۶
5 - ابن ماجہ، کتاب الحج، باب الخطبة یوم النحر، ۳ / ۴۸۷، حدیث: ۳۰۵۷