كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (پ۴، اٰل عمرٰن: ۱۱۰) ترجمۂ کنز الایمان: تم بہتر ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں ۔
حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”تم 70امتو ں کی تکمیل کرنے والے ہو اور اللہ پاک کے نزدیک دیگر امتوں کے مقابلے میں سب سے بہتر اور سب سے عزت والی امت ہو ۔ “ (1)
امتی کو کیسا ہونا چاہیے ؟
پھر یہ کہ جب حضور نبی پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممخلوق میں سب سے بہتر اور سب سے افضل ہیں تو آپ کی امت بھی سب سے بہتر اور سب سے افضل ہوئی ، تو کیا بات ہے اس شخص کی جو بہترین امت میں سے ہے اور مخلوق میں سب سے بہترہستی کے پیروکاروں میں شامل ہے بالخصوص وہ شخص کہ جو آخر زمانے میں مسلمانوں کی سب سے بہترین منزل میں رہائش رکھنے والا ہو مگر یہ ضرور ہے کہ وہ شخص اچھی صفات کا حامل اور بری صفات سے بچنے والا ہو اور اس امت کا بُرا فرد وہ ہے جو اپنے بد ترین شخص ہونے پر راضی ہے باوجودیکہ وہ مخلوق میں سب سے بہتر امت اور سب سے بہتر رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیروکاروں میں شامل ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِۙ-اُولٰٓىٕكَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِؕ(۷) (پ۳۰، البینة: ۷) ترجمۂ کنز الایمان: بے شک جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے وہی تمام مخلوق میں بہتر ہیں ۔
پس لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو ایمان اور عمل صالح بجا لایا نیزارشاد باری تعالیٰ ہے :
كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِؕ- (پ۴، اٰل عمرٰن: ۱۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان: تم بہتر ہوان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور بُرائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو ۔
بہترین امتی کی خوبیاں:
مروی ہے کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشا د فرمایا: ” لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے
________________________________
1 - مسند احمد، مسند البصریین، ۷ / ۲۳۳، حدیث: ۲۰۰۳۵