Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
26 - 85
	حضرت سیِّدُنا ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ قیامت اُس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک اہلِ عراق کے بہترین لوگ ملک شام منتقل  نہ ہو جائیں گے اور شام کے بدترین  لوگ عراق منتقل  نہ ہو جائیں گے ۔ (1)
قیامت سے پہلے بڑی آگ کا خروج: 
	حضور نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: قیامت قائم نہ ہو گی حتّٰی کہ حجاز کی سرزمین سے ایک آگ نکلے گی جس سے بُصریٰ کے اونٹوں کی گردنیں روشن ہو جائیں گی ۔ (2)
	یہ آگ حجاز میں مدینہ منورہ کے قریب سے سن 654 ہجری میں نکل چکی ہے  اور اس کی روشنی میں بُصرٰی کے اونٹوں کی گردنیں دیکھی گئیں اور اس کے فوراً بعد بغداد پر حملہ ہو گیا جس میں خلیفہ اور عام اہل بغداد کا قتل ہوا اور تاتاریوں کے ہاتھوں بتدریج پورا عراق تباہ و برباد ہو گیا اور اسی وقت عراق کے بہترین افراد نے شام کی طرف ہجرت کی ۔ جہاں تک برے لوگ ہیں  تو آخری  زمانے میں ایک آگ نکلے گی جو اپنے قہر سے انہیں گھیر کر شام لے جائے گی حتّٰی کہ تمام کے تمام لوگ قیامت قائم ہونے سے پہلے ملک شام میں جمع ہو جائیں گے ۔ 
فتنوں کے دور میں جائے پناہ: 
	حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”فتنوں کے دور میں بڑی جنگ کے وقت مسلمانوں کی جائے پناہ ”غوطہ “  ہو گا جو دمشق نامی شہر کے کنارے واقع ہے ، وہ شام کے شہروں میں سب سے بہتر جگہ ہے ۔  “ (3)اور ایک روایت میں  یہ الفاظ ہیں کہ ”یہ اس وقت مسلمانوں کے لئے سب سے بہتر منزل ہو گی ۔  “ (4)
امتِ مصطفٰے کی عظمت وفضیلت
	میرے بھائیو!  جو اس امت کا فرد ہے وہ  اللہ کے نزدیک  سب بہترامت کا فرد ہے ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : 



________________________________
1 -     مسند احمد، مسند الانصار، ۸ /  ۲۷۰، حدیث: ۲۲۲۰۷
2 -     بخاری، کتاب الفتن، باب خروج النار، ۴ /  ۴۴۸، حدیث: ۷۱۱۸
3 -     ابو داود، کتاب الفتن والملاحم، باب فی المعقل من الملاحم، ۴ /  ۱۵۰، حدیث: ۴۲۹۸
4 -      مستدرک، کتاب الفتن والملاحم، باب یوم الملحمة الکبری فسطاط المسلمین بدمشق، ۵ /  ۶۸۴، حدیث: ۸۵۴۳