ہجرت کے بعد ہجرت:
ایک روایت میں ہے کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: عنقریب ہجرت کے بعد ایک اور ہجرت ہو گی، چنانچہ روئے زمین کے بہترین لوگ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے ہجرت والے مقام (یعنی شام) میں رہنے کو لازم کر لیں گے ۔ (1)
قربِ قیامت میں نزولِ عیسٰیعَلَیْہِ السَّلَام:
آخری زمانے میں ملک شام میں ہی حضرت سیِّدُنا عیسٰی بن مریم عَلَیْہِ السَّلَام نزول فرمائیں گے اور آپ ہی ہیں جنہوں نے ہمارے آقا، محمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آمدکی خوشخبری سنائی تھی، آپ نازل ہو کر دین محمدی کو نافذ فرمائیں گے ، اسی کے مطابق فیصلے کریں گے ، اس کے سوا کوئی اور دین قبول نہیں کریں گے ، خنزیر کو قتل کریں گے ، جزیہ ختم کردیں گے (اب اسلام ہی قبول کرنا پڑے گا) اور مسلمانوں کے امام کی اقتدا میں نماز ادا کریں گے اور فرمائیں گے : ”اس امت میں بعض لوگ بعض لوگوں کے امام ہیں ۔ “ یہ فرمانا اس بات کا اشارہ ہو گا کہ وہ مسلمانوں کے دین ہی کی اتباع کریں گے اور اسے منسوخ وباطل نہیں کریں گے ۔
پھر یہ کہ آخری زمانے میں ملک شام لوگوں کے جمع ہونے اور پھیل جانے کی جگہ ہو گی، قیامت سے قبل لوگ دنیا کے کونے کونے سے اس کی طرف سفر کریں گے اور روئے زمین کے بہترین لوگ حضرت سیدنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی ہجرت گاہ یعنی ملک شام کی جانب خوشی خوشی ہجرت کریں گے جیسا کہ پہلے بھی یہ ہو چکا ہے کہ روئے زمین کے بہترین لوگوں نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی جائے ہجرت میں رہنے کو لازم کر لیا تھا ۔
بہترین بندوں کے لیے بہترین زمین:
حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”ملک شام میں رہنا لازم کر لو کیونکہ وہ اللہ پاک کی زمین کاپسندیدہ حصہ ہے جس کے لیے وہ اپنے بہترین بندوں کو چنتا ہے ۔ “ (2)
________________________________
1 - ابو داود، کتاب الجھاد، باب فی سکنی الشام، ۳ / ۷، حدیث: ۲۴۸۲
2 - ابو داود، کتاب الجھاد، باب فی سکنی الشام، ۳ / ۷، حدیث: ۲۴۸۳