وَاَنْتَ لَمَّا وُلِدْتَ اَشْرَقَتِ الْــأَرْضُ وَضَاءَتْ بِنُوْرِکَ الْاُفُقُ
فَنَحْنُ فِیْ ذٰلِکَ الضِّیَاءِ وَفِی الــنُّوْرِ وَسُبُلِ الرَّشَادِ نَخْتَرِقُ
ترجمہ: (۱)…آپ جب دنیا میں جلوہ گر ہوئے تو زمین چمک اٹھی اور آپ کے نُور سے آفاق روشن ہوگئے ۔
(۲)…تواب ہم اُسی روشنی میں ہیں اور اُسی نور میں ہدایت کے راستوں پر گامزن ہیں ۔
محلات بُصری روشن ہونے میں اشارہ:
جہاں تک آپ کی ولادت وقت ساتھ نکلنے والے نور سے بُصریٰ کے محلات روشن ہونے کا تعلق ہے تو وہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ملک شام نور نبوت کے ساتھ خاص ہو گا کیونکہ وہ آپ کی بادشاہت والے ملک کا شہر ہے جیسا کہ حضرت سیِّدُنا کعب الاحبار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بیان فرمایا کہ سابقہ کتب میں یہ لکھا ہوا ہے : ”حضرت محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ کے رسول ہیں، ان کی جائے پیدائش مکہ، ہجرت کا مقام یثرب (مدینہ منورہ) ہے اور آپ کی بادشاہت ملکِ شام میں ہوگی ، چنانچہ مَکۂ مکرمہ سے نبوت محمدی کی ابتدا ہوئی اور آپ کی بادشاہت ملک شام تک پہنچی اوراسی لیے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو معراج کی شب ملک شام کی جانب بیت المقدس تک سیر کرائی گئی جیسا کہ آپ سے قبل حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے بھی ملک شام کی طرف ہجرت فرمائی تھی ۔
ملک شام کے فضائل:
ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اللہ پاک نے ہر نبی کو ملک شام سے ہی مبعوث فرمایا اور اگر کوئی وہاں مبعوث نہیں ہوئے توانہوں نے اُس کی طرف ہجرت کی ہے اور آخری زمانے میں علم اور ایمان کا ٹھکانہ ملک شام ہو گا پھر اس میں سے نبوت کا نور ظاہر ہو کر تمام اسلامی ممالک میں پھیل جائے گا ۔
حضرت سیِّدُنا عمرو بن عاص اور حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: میں نے دیکھاکہ ایک کَتبہ میرے تکیے کے نیچے سے نکلا میں اسے دیکھنے لگا، وہ ایک بلند ہوتا نور تھاجس کی روشنی شام تک پھیل رہی تھی، سنو لو! جب فتنے رونما ہوں گے اس وقت اسلام شام میں ہوگا ۔ (1)
________________________________
1 - مسند احمد، مسند الشامیین، ۶ / ۲۳۱، حدیث: ۱۷۷۹۰
مستدرک، کتاب الفتن والملاحم، باب الایمان اذا وقعت الفتن بالشام، ۵ / ۷۱۲، حدیث: ۸۶۰۱