حضرت سیِّدُنا عتبہ بن عبد السلمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور پُرنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں کہ میری والدہ ماجدہ نے بیان کیا: مجھ سے ایک نور ظاہر ہوا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے ۔
حضرت سیِّدَتُنا حلیمہ سعدیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں کہ حضرت سیِّدَتُنا آمنہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا: جب رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے بطن میں تشریف فرماہوئے تو یہ میرے لیے ہلکا ترین اور مبارک ترین حمل تھا، ولادتِ باسعادت کے وقت مجھ سے نُور نکلا گویا روشن ستارہ ہو، اُس کی چمک سے بُصرٰی میں اونٹوں کی گردنیں روشن ہوگئیں ۔
ظہورِنُور کی ایک حکمت:
اُس دل افروز ساعت میں یہ نُور ظاہر ہونا دراصل اُس نُور کی طرف اشارہ تھا جسے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لے کر آئے ، جس سے زمین والوں کو ہدایت عطا ہوئی اور اُس کی برکت سے زمین پر چھائے ہوئے شرک کااندھیرادُور ہوگیا ۔ جیساکہ ارشاد ہوتا ہے :
قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ(۱۵) یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۱۶) (پ۶، المآئدة: ۱۵-۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب اللہ اس سے ہدایت دیتا ہے اُسے جو اللہ کی مرضی پر چلا سلامتی کے راستے اور انہیں اندھیریوں سے روشنی کی طرف لے جاتا ہے اپنے حکم سے اور انہیں سیدھی راہ دکھاتا ہے ۔
اور دوسرے مقام پر یوں فرمایا:
فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤۙ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠(۱۵۷) (پ۹، الاعراف: ۱۵۷)
ترجمۂ کنز الایمان: تو وہ جو اس پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اسے مدد دیں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ اُترا وہی با مراد ہوئے ۔
سرکار دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے محترم چچا جان حضرت سیِّدُنا عباس بن عبد المطّلب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اسی معنیٰ میں یہ مشہور اشعار ہیں: