Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
22 - 85
 رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے مولود کی گھڑی میں وہ  نظارہ جاگتی آنکھوں سے ملاحظہ فرمایا ۔ چنانچہ
مروی ہے کہ  جب رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت سیِّدَتُنا آمنہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے بطن اطہر میں تشریف لائے تو وہ فرماتی ہیں: اُس وقت  مجھ سے کسی کہنے والے نے کہا: بلاشبہ تمہارے وجود میں اس امت کے سردار تشریف فرما ہیں، جب یہ دنیا میں جلوہ افروز ہوں تو تم کہنا: ”اُعِیْذُہُ بِالْوَاحِدِ مِنْ شَرِّ کُلِّ حَاسِدٍ یعنی  میں انہیں ہر حاسد کے شر سے خدائے واحد کی پناہ میں دیتی ہوں ۔  “  اور اس بات کی نشانی یہ ہے کہ ان کے ساتھ ایک نُور نکلے گا جو سرزمینِ شام پر بُصرٰی کے محلّات کو روشنی سے بھردے گا ۔ جب  یہ پیدا ہوں تواِن کا نام ”محمد “  رکھنا کہ تورات شریف میں ان کا نام ”احمد “  ہے ، آسمان وزمین والے ان کی حمد کریں گے ، انجیلِ مقدّس میں  بھی ان کا نام ”احمد “  ہے ، آسمان وزمین والے ان کی حمد کریں گے اور قرآنِ کریم میں ان کا نام ”محمد “  ہے ۔ 
بوقت ولادت نور مصطفٰے : 
حضرت سیِّدَتُنا آمنہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں: جب میرے بیٹے یعنی نبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے پیٹ میں تشریف فرما ہوئے تو مجھے اُن کی کوئی مشقت محسوس نہ ہوئی  یہاں تک کہ وہ دنیا میں تشریف لے آئے ۔ جب آپ مجھ سے الگ ہوئے تو آپ کے ساتھ ایک ایسا نُور نکلا جس سے مشرق سے لے کر مغرب تک سب روشن ہوگیا، پھر آپ دونوں مبارک ہاتھوں کے سہارے زمین پر تشریف لائے ، ایک مٹھی مٹی لی اور سرِ مبارک آسمان کی طرف اٹھایا ۔ 
دوسری روایت میں ہے : پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسرِ مبارک آسمان کی طرف بلند کیے ہوئے  مبارک گھٹنوں کے بل زمین پر تشریف لائے ، ساتھ ہی ایک نُور نکلا جس سے شام کے محلات اور بازار روشن ہوگئے حتّٰی کہ بُصرٰی کے اونٹوں کی گردنیں دکھائی دینے لگیں ۔ 
شبِ ولادت ستارے قریب آگئے : 
حضرت سیِّدُنا عثمان بن ابو العاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ولادتِ مصطفے ٰ کی رات موجود تھیں، بیان کرتی ہیں: میں گھر میں جس طرف بھی دیکھتی نُور ہی نُور نظرآتا اور ستاروں کو دیکھاتواتنے قریب آگئے تھے کہ میں کہنے لگی: یہ مجھ پر گر ہی پڑیں گے ۔