Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
21 - 85
 ”انبیائے کرام کی مائیں یونہی دیکھا کرتی ہیں ۔  “ 
حدیثِ پاک میں لفظ ”رُؤْیا “  ہے اگر اس سے مُراد خواب لیا جائے تو روایت ہے کہ حضرت سیِّدَتُنا آمنہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے زمانۂ امید کے شروع میں خواب دیکھا: اُنہیں خوشخبری دی گئی کہ اُن سے ولادتِ مصطفے ٰ کی مبارک ساعت میں ایسا نُور نکلے گا جس سے شام کے محلات چمک جائیں گے ۔ 
حضرت ابومریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے  روایت ہے کہ بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی: آپ کے معاملۂ نبوّت کی اوّلین بات کیا تھی؟حضور نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ پاک نے مجھ سے عہد لیا جیسے اور نبیوں سے عہد لیا ۔  “  پھرآپ نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی: 
وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ۪-وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًاۙ(۷) (پ۲۱، الاحزاب: ۷)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اے محبوب یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے عہد لیا اور تم سے اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم سے اور ہم نے ان سے گاڑھا عہد لیا ۔
اورمیں عیسیٰ بن مریم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بشارت ہوں  اوررسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی والدۂ ماجدہ نے خواب دیکھا کہ اُن کے سامنے ایک چراغ آیا جس سے اُن کے لئے شام کے محلّات چمک گئے ۔  “  پھر پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دو یا تین مرتبہ ارشاد فرمایا: ”اور اس کے علاوہ بھی ۔  “ (1)
بوقتِ ولادت انوار وتجلیات: 
 اگر حدیثِ پاک میں وارد لفظ ”رؤیا “  سے مُراد کُھلی آنکھوں کا نظارہ ہو جیساکہ حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے  اِس فرمان باری تعالیٰ: 
وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْۤ اَرَیْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ (پ۱۵، بنیٓ اسرآءیل: ۶۰)	ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نے نہ کیا وہ دکھاوا جو تمہیں دکھایا تھا مگر لوگوں کی آزمائش کو ۔
کی تفسیر میں فرمایا کہ یہاں جاگتی آنکھوں کا نظارہ مُراد ہے جوحضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو معراج کی رات دکھایا گیا ۔ پس  اگر یہاں بھی یہی مراد ہو تواس حوالے سے بھی روایت موجود ہے کہ حضرت سیِّدَتُنا آمنہ



________________________________
1 -     معجم کبیر، ۲۲ /  ۳۳۳، حدیث: ۸۳۵