حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام اپنے مبارک زمانے میں ہمارے پیارے آقاحضرت محمد مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیروی کی ترغیب دلاتے اور فرماتے تھے : ”وہ نبی تلوار کے ساتھ بھیجے جائیں گے ، یہ بات تمہیں ان سے ہرگز نہ روکے ۔ “ اور یہ بھی مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: عنقریب میں چلا جاؤں گا اور وہ نبی تشریف لائیں گے جو اپنے دعوے میں تمہاری تعریف کے طالب نہ ہوں گے بلکہ تلوار نیام سے کھینچ لیں گے پھر تم ان کے دین میں داخل ہوگے خواہ خوشی سے یا ناگواری سے ۔
اُمتِ محمدیہ کا صبروشکر:
حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم رؤفٌ رّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ پاک نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو وحی فرمائی کہ میں تمہارے بعد ایک امت پیدا فرماؤں گا، اُنہیں پسندیدہ بات پہنچے گی تو میری حمد کریں گے اور شکر بجالائیں گے اور اگر انہیں کوئی ناپسندیدہ بات پہنچے گی تو ثواب کی امید رکھیں گے اور صبر سے کام لیں گے جبکہ کوئی دانش مندی ہوگی نہ کوئی علم ہوگا ۔ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی: اے رب! یہ کیسے ہوگا جبکہ کوئی دانش مندی ہوگی نہ کوئی علم ہوگا؟ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: میں اُنہیں اپنے حِلم اور اپنے عِلم سے عطا فرماؤں گا ۔ “ (1)
حضرت سیِّدُنا محمد بن اسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق فرماتے ہیں، مجھے ایک عالم صاحب نے بتایا کہ حضرت سیِّدُنا عیسیٰ رُوْحُاللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ پاک کو سب سے زیادہ محبوب اُمت امتِ محمدیہ ہے ۔ عرض کی گئی: آپ ان کی کیا فضیلت بیان فرمارہے ہیں؟ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ارشاد فرمایا: ”لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ “ کہنا کسی اور امت پر اتنا آسان نہیں کیا گیا جتنا اس امت پر آسان کردیا گیا ۔
والدہ ماجدہ کا خواب:
رحمتِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دنیا میں جلوہ گری سے پہلے ہی اپنے نبی ہونے کی تیسری دلیل یہ دی کہ میں اپنی والدہ حضرت آمنہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا وہ نظارہ ہوں جو انہوں نے ملاحظہ فرمایا کہ ان سے ایک نُور نکلا جس سے اُن کے لئے شام کے محلات چمک گئے اورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ
________________________________
1 - مسند احمد، مسند القبائل، ۱۰ / ۴۳۰، حدیث: ۲۷۶۱۵