اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مبعوث فرمایا اور اُنہیں حضرت اسماعیل بن حضرت ابراہیم عَلَیْہِمَاالسَّلَام کی اولاد میں سے بنایا جیسا کہ ان دونوں انبیائے کرام نے دُعا کی تھی ۔ ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وہ ہیں جنہوں نے ہر باطل سے جُدا دینِ ابراہیمی کو کمزور ہونے اور چھپ جانے کے بعد دنیا والوں کے سامنے ظاہر فرمایااِسی لیے آپ سب لوگوں سے بڑھ کر حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے حق دار اور قریبی ہیں جیساکہ ارشادِ ربّانی ہے :
اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاؕ- (پ۳، اٰل عمرٰن: ۶۸)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک سب لوگوں سے ابراہیم کے زیادہ حق دار وہ تھے جو ان کے پیرو ہوئے اور یہ نبی اور ایمان والے ۔
حضوررحمتِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نبی کا کوئی نبی ولی ہوتا ہے ، میرے ولی حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام ہیں ۔ “ (1)پھر آپ نے مذکورہ آیت طیبہ تلاوت فرمائی ۔ حضرت سیِّدُنا ابراہیم خَلِیْلُاللہعَلَیْہِ السَّلَام کی اولاد میں سب سے بڑھ کر آپ کے مشابہ اور ظاہری ومعنوی اعتبار سے قریب تر حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں حتّٰی کہ اللہ پاک کے خلیل ہونے میں بھی سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خود ارشاد فرماتے ہیں: ”اللہ پاک نے مجھے خلیل کیا جیسے ابراہیم کو خلیل کیا ۔ “ (2)
بشارتِ عیسی کا مفہوم ومعنی:
حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دوسری دلیل یہ دی کہ ”میں حضرت عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بشارت ہوں جو انہوں نے اپنی قوم کو دی ۔ “ حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام بنی اسرائیل کے آخری نبی ہیں اوراللہ پاک نے اس بشارت کا ذکر یوں فرمایا ہے :
وَ اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُؕ- (پ۲۸، الصف: ۶)
ترجمۂ کنز الایمان: اور یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرتا ہوا اور ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے اُن کا نام احمد ہے ۔
________________________________
1 - ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورة ال عمران، ۵ / ۴، حدیث: ۳۰۰۶
2 - مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب النھی عن بناء المساجد الخ، ص۲۱۳ ، حدیث: ۱۱۸۸