حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو انتقال کے بعد خواب میں دیکھ کر حال پوچھا گیا تو فرمانے لگے : ”اگر یہ پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نہ ہوتے تو ہم لوگ آتش پرست ہوتے ۔ “
واقعی یہی بات ہے ، اگر حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف نہ لاتے تو عراق والے آگ کے پُجاری ہوتے ، شام، مصر اور رُوم والے نصرانی ہوتے ، عرب والے بُت پرست ہوتے ۔ لیکن اللہ پاک نے حضور سیدالانبیاء والمرسلین حضرت محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مبعوث فرماکر اپنے بندوں پر رحم فرمایا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں گمراہی سے بچالیا، جیساکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷) (پ۱۷، الانبیآء: ۱۰۷) ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لئے ۔
دوسرے مقام پر فرمایا:
ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ(۴) (پ۲۸، الجمعة: ۴) ترجمۂ کنز الایمان: یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے اور اللہ بڑے فضل والا ہے ۔
چنانچہ جسے اسلام کی دولت نصیب ہوئی اُسے بڑا فضل عطا ہوا، اُس پر اللہ پاک کا بہت بڑا احسان ہے ، اُسے اس نعمت کا شکر ادا کرنے کی کس قدر حاجت ہے ! بہت ضروری ہے کہ وہ بندۂ مؤمن اس نعمتِ اسلام کو ہمیشہ باقی رکھنے ، اس پر مرتے دم تک قائم رہنے اور اسی پر خاتمہ ہونے کی اللہ پاک کی بارگاہ میں دُعا کرے ۔ ایسا کرنے سے یہ اسلام کی نعمت کامل ہوگی ۔
ابوالانبیاءعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ السَّلَام کی شان وعظمت:
حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حق پر قائم اور باطل سے جدا لوگوں کے امام ہیں اور وہ ہستی ہیں جن کی پیروی کا حکم اللہ پاک نے ہمارے پیارے آقاحضرت محمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور دیگر انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کو ارشاد فرمایا اور انہیں لوگوں کا پیشواو رہنما بنایا ۔ آپ اور آپ کے بیتے حضرت سیِّدُنا اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام نے اللہ پاک کی بارگاہ میں دُعا کی کہ ”مکہ والوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیج جو اِن اِن صفات سے آراستہ ہو ۔ “ اللہ پاک نے دونوں ہستیوں کی دُعا کو شرفِ قبولیت بخشا اور اہل مکہ میں پیارے نبی صَلَّی