شاعر ابو عتاہیہ کہتا ہے :
وَکَیْفَ تُحِبُّ اَنْ تُدْعٰی حَکِیْمًا وَاَنْتَ لِکُلِّ مَا تَہْوٰی رَکُوْبُ
وَتَضْحَکُ دَائِبًا ظَہْرًا لِبَطْنٍ وَتَذْکُرُ مَا عَمِلْتَ فَلَا تَتُوْبُ
ترجمہ: (۱)…تم ہر خواہش کے گھوڑے پر سوار ہوجاتے ہو پھر کیوں چاہتے ہو کہ تمہیں دانش ور بلایا جائے ؟
(۲)…تم ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ توہوجاتے ہو لیکن اپنے کرتوت یاد آنے پر توبہ نہیں کرتے ؟
آمدِ مصطفٰے سے پہلے گمراہی کا راج:
ماقبل مذکور آیات کے اس حصے (وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ(۲)یعنی اور وہ ضرور اس سے پہلے کُھلی گمراہی میں تھے ۔ ) میں اُس گمراہی کی طرف اشارہ ہے جس میں لوگ قرآنِ پاک نازل ہونے سے پہلے مبتلا تھے ۔ اللہ پاک نے اہلِ زمین پر نظر فرمائی اور سب عرب وعجم پر غضب فرمایا سوائے چند اُن اہلِ کتاب کے جنہوں نے اپنے اصل دین کو تھامے رکھا، لیکن یہ لوگ بہت تھوڑے تھے ۔ عام طور پر اہلِ کتاب نے اپنی کتابوں میں تحریف کردی تھی، انہوں نے دین میں وہ سب ملادیا جو دین کا حصہ نہیں تھا، چنانچہ وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا ۔ اہلِ کتاب کے علاوہ دیگر لوگ تو کُھلی گمراہی میں تھے ، اَن پڑھ لوگ مشرک تھے اور بُتوں کی پُوجا کرتے تھے ، مجوسی آتش پرست تھے اور دو خُداؤں کو مانتے تھے ، یونہی اور زمین والوں کا حال تھا، کوئی ستارہ پرست تھا تو کوئی آفتاب پرست اور کوئی چاند کا پُجاری تھا پھر اللہ پاک نے اپنے پیارے حبیب محمدِ مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بھیجا اور اُن کی لائی ہوئی ہدایت اور دینِ حق کی طرف مسلمانوں کو راہ دی، اللہ پاک نے اس دین کو غلبہ عطا فرمایا یہاں تک کہ دینِ اسلام مشرق ومغرب میں پھیل گیا، وہاں توحید کا کلمہ اور عدل وانصاف سے کام لینا ظاہر ہوگیا جبکہ اس سے پہلے سب زمین شرک وظلم کی تاریکیوں میں تھی ۔
حضور اکرم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ السَّلَام نے گمراہی سے بچالیا:
سورہ جمعہ کی مذکورہ آیات طیبات میں ”ان پڑھوں “ سے مراد تو اہل عرب ہیں جبکہ ”وہ جو اِن اگلوں سے نہ ملے “ اِن سے مراد فارس (ایران)اور رُوم کے لوگ ہیں، اہل فارس آتش پرست تھے اور رُومی لوگ نصرانی تھے ، اللہ پاک نے اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بھیج کر ان لوگوں کو توحید کی راہ دی ۔ چنانچہ