Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
16 - 85
کامیاب ہوا جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : 
(1)…
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَاﭪ(۹)  (پ۳۰، الشمس: ۹)                   ترجمۂ کنز الایمان: بے شک مُراد کو پہنچا جس نے اسے ستھرا کیا ۔
(2)…
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ(۱۴)  (پ۳۰، الاعلٰی: ۱۴)            ترجمۂ کنز الایمان: بے شک مراد کو پہنچا جو ستھرا ہوا ۔
کتاب وحکمت کی  نبوی تعلیم: 
ماقبل آیات میں اس فرمانِ الٰہی (وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۗ-یعنی اور اُنھیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتے ہیں) میں کتاب سے مراد قرآنِ پاک ہے یعنی رسولِ اکر م صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تلاوتِ قرآنِ کریم سکھاتے ہیں اور حکمت سے مُراد قرآنِ پاک کے معانی کی سمجھ اور ان پر عمل ہے لہٰذا صرف تلاوت پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ معنیٰ بھی سمجھا جائے اور قرآنی احکامات پر عمل بھی کیا جائے ، جس نے ان چیزوں کو اکٹھا کرلیا اُسے حکمت عطا کی گئی ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا  ہے : 
یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُۚ-وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًاؕ- (پ۳، البقرة: ۲۶۹)
ترجمۂ کنز الایمان: اللہ حکمت دیتا ہے جسے چاہے اور جسے حکمت ملی اُسے بہت بھلائی ملی ۔
عالم کے لیے حکمت کی اہمیت: 
حضرت سیِّدُنا فضیل بن عیاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق فرماتے ہیں: علماء بہت ہیں لیکن حکمت والے کم ہیں اور فرماتے ہیں: حکمت والے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے وارث ہیں ۔ 
حکمت وہ نفع دینے والا علم ہے جس کے بعد نیک عمل آئے ۔ حکمت وہ نُور ہے جو دل میں ڈالا جاتا ہے ، اس کے ذریعے آسمانی علم کا معنیٰ سمجھا جاتا ہے ، یہ نور اس علم کی پیروی اور عمل کی ترغیب دیتا ہے ۔ 
جنہوں نے کہا کہ حکمت سُنّت وحدیثِ مصطفے ٰ کا نام ہے اُنہوں نے بھی ٹھیک کہا کیونکہ احادیثِ مبارکہ قرآنِ پاک کی تفسیر کرتی ہیں، اِس کے معانی  کو بیان کرتی ہیں اور اس کے اتباع اور عمل پر ابھارتی ہیں پس  حکمت والا وہ عالم ہے جو علم کی باریکیوں تک پہنچے اور عمل کرتے ہوئے اپنے علم سے نفع بھی اٹھائے ۔